میں محض میرا خیال ہے تو مجھے یہ پسند نہیں کہ میری وجہ سے کسی بے گناہ کو قتل کیا جائے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔ (۱)
(1439)…حضرتِ سیِّدُنا رَقَبَہ بن مَصْقَلَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو فرمایا: ’’مجھے صحن میں لے جاؤ تاکہ عجائبات سماویہ میں غور کرسکوں۔‘‘ چنانچہ، جب صحن میں لایا گیا تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں اپنے نفس کو تیری بارگاہ میں باعث اجر وثواب سمجھتا ہوں کیونکہ (وقت ِ نزاع) مجھ پر لوگوں سے زیادہ با عث ِ مشقت ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے احسان والا معاملہ فرمایا کیونکہ وہ خود کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں باعث ِ اجر وثواب سمجھتے تھے۔ (۲)
حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام حسین اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی اہلِ بیت اطہار کے ان افراد میں سے ہیں جو فقرا اور اہلِ صفہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ یہ دونوں حضرات حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اہلِ صفہ کو اپنی مجالس میں بٹھاتے اور پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ان کی حددرجہ محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ میل جول رکھتے تھے کیونکہ انہیں اہلِ صفہ کی صحبت اختیار کرنے اور ہمیشہ ان کے ساتھ میل جول رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی طرح مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی بکثرت اہلِ صفہ کی ملاقات کے لئے جاتے، ان سے محبت کرتے اور ان کے ساتھ ملنے جلنے کو باعث ِ اجر وثواب سمجھتے تھے۔ جیسا کہ ان سے روایت کردہ احادیث میں یہ بات مشہور ومعروف ہے۔ نیز حضرات صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن اہلِ صفہ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو باعث سعادت، ان کے ساتھ میل جول رکھنے کو بلند مقام اور ان سے جدائی اختیار کرنے اور بغض رکھنے کو برے حال سے تعبیر کرتے تھے۔ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جو شخص اہلِ صفہ کی سیرت کی مخالفت کرتا ہے وہ تنگ حال میں زندگی گزارتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۱۳۸۳، الحسن بن علی بن ابی طالب، ج۱۳، ص۲۸۳۔
2…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۱۳۸۳، الحسن بن علی بن ابی طالب، ج۱۳، ص۲۸۵۔