Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
69 - 603
حق مہر100کنیزیں:
(1436)…حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک عورت سے نکاح کیا تو حق مہر میں ایسی 100کنیزیں دیں جن میں سے ہر ایک کے پاس ایک ہزار درہم تھے۔‘‘  (۱)
(1437)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بن سعد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو عورتوں کو (طلاق دی تو) 20ہزار درہم اور شہد کے مشکیزے بطور تحفہ بھیجے۔ ایک نے کہا: ’’جدا ہونے والے دوست کی طرف سے بہت کم عطیہ ملا ہے۔‘‘ روای فرماتے ہیں: ’’میرا خیال ہے کہ کہنے والی حنفیہ تھی۔‘‘  (۲)
وقت ِ وصال:
(1438)…حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن اسحاق عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ میں ایک شخص کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کے لئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اے فلاں! مجھ سے سوال کر۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس وقت تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سوال نہیں کروں گا جب تک کہ آپ صحت یاب نہ ہوجائیں۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اندر تشریف لے گئے۔ کچھ دیر بعد واپس تشریف لائے اور فرمایا: ’’کچھ مانگ لواس سے قبل کہ مجھ سے کچھ نہ مانگ سکو۔‘‘ اس شخص نے عرض کی: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ صحت یاب ہوجائیں گے تو مانگ لوں گا۔‘‘ فرمایا: ’’مجھے اپنے قریبی لوگوں سے بہت سی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا اور مجھے باربار زہر دیا گیا لیکن اس مرتبہ جو زہر دیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی ایسا زہر نہیں دیا گیا۔‘‘ راوی فرماتے ہیں: پھر میں اگلے روزخدمت میں حاضر ہوا تو آپ آخری سانسیں لے رہے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سرہانے بیٹھے پوچھ رہے تھے کہ ’’اے میرے بھائی! آپ کو زہر کس نے دیا؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اس لئے پوچھ رہے ہو کہ اسے قتل کردو؟‘‘ کہا: ’’ہاں!‘‘ فرمایا: ’’جس کے بارے میں میرا گمان ہے (کہ اس نے مجھے زہر دیا ہے) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سے خوب بدلہ لینے والا اور سخت سزا دینے والا ہے لیکن اگر اس کے بارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۵۶۴، ج۳، ص۲۸۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۵۶۱، ج۳، ص۷۲۔