خلافت تمہارے لئے باعث ِ فتنہ اور کچھ مدت کے لئے سامانِ دنیا ہے۔‘‘ (۱)
(1430)…حضرتِ سیِّدُنا ابان بن طفیل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ فرماتے سنا کہ ’’بظاہر تو تم دنیا میں رہو لیکن دل آخرت (کی تیاری) میں مشغول رہے۔‘‘ (۲)
20بار پیدل مکہ مکرمہ کی حاضری:
(1431)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن علی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مجھے حیا آتی ہے کہ میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ اس کے گھر کی طرف کبھی نہ چلا ہوں۔‘‘ چنانچہ، (اسی جذبہ کے تحت) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 20بار مدینہ منورہ زَادَہَا اللَّہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا سے پیدل مکہ مکرمہ زَادَہَا اللَّہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے۔ (۳)
سیِّدُناامام حسن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی سخاوت:
(34-33-1432)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن یزید بن جدعان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دومرتبہ اپنا سارا مال اور تین مرتبہ آدھا مال راہِ خدا میں صدقہ کیا حتی کہ ایک جوتا اور ایک موزہ صدقہ کردیا اور ایک جوتا اور ایک موزہ رکھ لیا۔‘‘ (۴)
(1435)…حضرتِ سیِّدُنا قرہ بن خالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے گھر کھانا کھایا۔ جب سیر ہوگیا تو ہاتھ روک لیا اور رومال سے ہاتھ صاف کر لئے تو انہوں نے فرمایا: ’’حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’کھانا کوئی قابل قدر چیز نہیں کہ اس پر قسم دی جائے۔‘‘ (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۵۵۹، ج۳، ص۲۶، بتغیر۔
المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الابرار، باب ماذکرمن حدیث الامرائ…الخ، الحدیث: ۱۶۵، ج۷، ص۲۷۷، بتغیر۔
2…طبقات الصوفیۃ للسلمی، الطبقۃ الرابعۃ، الرقم:۶۷، ص۲۸۳، عن محمد بن علی الکتانی۔
3…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۱۳۸۳، الحسن بن علی بن ابی طالب، ج۱۳، ص۲۴۲۔
4…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۱۳۸۳، الحسن بن علی بن ابی طالب، ج۱۳، ص۲۴۳۔
5…سیراعلام النبلاء للذ ھبی، الرقم:۲۶۹، الحسن بن علی بن ابی طالب، ج۴، ص۳۹۱، بدون اخذت المندیل۔