٭…عرض: جو اپنے مال کے معاملے میں بے فکر اور عزت کے معاملے میں لاپروا ہو، اگر برا بھلا کہا جائے تو جواب نہ دے اور خاندان کے معاملہ میں غمگین وپریشان رہتا ہو۔
امیرالمؤمین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’جہالت سے زیادہ سخت فقر کوئی نہیں اور عقل سے بڑھ کر کوئی مال نہیں۔‘‘ (۱)
خیر خواہِ اُمت:
(1428)…حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: ’’لوگ کہتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلافت کے خواہش مند ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’بلاشبہ عرب کے تمام قبائل میری دسترس میں تھے میں جس سے جنگ کرتا وہ بھی کرتے اور جس سے صلح کرتا وہ بھی کرتے لیکن میں نے رضائے الٰہی کے حصول اور امت ِ محمدیہ کے خون کی حفاظت کی خاطر خلافت چھوڑ دی۔‘‘ (۲)
(1429)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے (مسلمانوں کی خیرخواہی کی خاطر) کسی پسندیدہ چیز پر صلح کی تھی اس وقت میں وہاں حاضر تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا امیرِ معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا: ’’کھڑے ہوکر لوگوں کو بتادیجئے کہ آپ خلافت سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اسے میرے سپرد کردیا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: ’’بے شک سب سے بڑی عقل مندی پرہیزگاری اور سب سے بڑی حماقت فسق وفجور ہے۔ جس معاملے (یعنی خلافت) میں میرا اور حضرتِ معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اختلاف رہا ہے یا تو یہ اس کے زیادہ حقدار ہیں یا ان کی بنسبت میں زیادہ حقدار ہوں، لہٰذا اصلاحِ امت اور لوگوں کے خون کی حفاظت کی خاطر میں خلافت سے دست بردار ہوتا ہوں اور میں یہ جانتا ہوں کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۶۸۸، ج۳، ص۶۸۔
2…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب حب الصبیان، الحدیث:۴۸۴۸، ج۴، ص۱۶۲۔