علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: عمدہ وفصیح گفتگو کرنے اور معاملات کو خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا نام تصوُّف ہے۔
سیِّدُناامام حسن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا مقام ومرتبہ:
(1424)…حضرتِ سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے ایک حدیث بیان کی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، منزہ عن الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ حالت سجدہ میں حضرتِ سیِّدُناامام حسن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جو ابھی چھوٹے تھے تشریف لے آئے اور سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک پیٹھ یا گردن پر چڑھ بیٹھے۔ آپ نے انہیں آہستہ سے اوپر اٹھایا۔ جب نماز مکمل کرلی تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس بچے سے آپ اس انداز سے پیش آتے ہیں کہ کسی اور سے ایسا سلوک نہیں فرماتے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’یہ میرا پھول ہے اور بے شک میرا یہ بیٹا سیِّد (سردار) ہے اور امید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہ میں صلح کروائے گا۔‘‘ (۱)
وہ حسن کو بھی محبوب رکھے:
(1425)…حضرتِ سیِّدُنا عدی بن ثابت عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا براء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا: میں نے دیکھا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کاندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں اور ارشاد فرما رہے ہیں: ’’جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ حسن سے بھی محبت کرے۔‘‘ (۲)
محبوبِ سرکار:
(1426)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار، مسند ابی بکرۃ، الحدیث:۳۶۵۷، ج۹، ص۱۱۱، بتغیر۔
2…مسند ابی داود الطیالسی، البراء بن عازب، الحدیث:۷۳۲، ص۹۹۔