ہیں۔ یہ دونوں حضرات اہلِ صفہ کی محبت کو دین کا کمال اور ان کی صحبت کو بزرگی کی انتہا اور نسبت ِ رسول کا ذریعہ سمجھتے تھے باوجود اس کے کہ نسبت ِ رسول انہیں حضرات کا خاصہ تھی۔ نیز اہلِ صفہ کی دعاؤں کو غنیمت سمجھتے اور ان کے اَخلاق وآداب سے اِستفادہ کرتے تھے۔ اسی طر ح دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی اہلِ صفہ کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کی دعائیں لینے کو غنیمت سمجھتے تھے۔ حتی کہ وہ ایک دوسرے کے لئے اس طرح دعا کیا کرتے تھے۔
نیک لوگوں سے دعاکروانا:
(1422)…حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’ہم ایک دوسرے کے لئے دعا کیا کرتے تھے، اس لئے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے نیک لوگوں سے دعا کروانا ہم پرلازم کیاہے کیو نکہ وہ رات حالت ِقیام میں گزارتے اور دن روزے کی حالت میں اور فسق وفجور سے دور رہتے ہیں۔‘‘ (۱)
(1423)…حضرتِ سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا: ’’اے بیٹے! جب تم ایسے لوگوں کی صحبت میں ہو جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کر رہے ہوں اور کسی ضرورت کے پیش نظر تمہیں وہاں سے جانا پڑے تو انہیں سلام کر کے رخصت ہونا (اس کی برکت یہ ہوگی) کہ جب تک وہ بیٹھے رہیں گے تم ان کے ساتھ شریک رہوگے۔‘‘ (۲)
نواسۂ رسول حضرتِ سیِّدُنا اِمام حسن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُمَا
نوسۂ رسول حضرتِ سیِّدُنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جنتی نوجوانوں کے سردار، لوگوں کے محبوب، صاحبِ حکمت اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مقرب ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رو شن ومرتب کلام میں صوفیانہ جھلک پائی جاتی ہے۔ نیز آپ بلند مقام اور پاکیزہ اَخلاق کے مالک تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الجامع الصغیر للسیوطی، حرف الجیم، الحدیث:۰۳۵۹، ص۲۱۹
المجالسۃ وجواہر العلم، الجزء الثامن عشر، الحدیث:۲۵۴۸، ج۲، ص۴۲۱، بتغیر قلیل۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد سلمان فارسی، الحدیث:۸۲۹، ص۱۷۵۔