Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
61 - 603
پیار ے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے اہل بیت اور عزیز و اقارب
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد اہلِ صفہ آپ کے عزیز واقارب اور اکابر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی زیارت کے لئے آتے اور جن نوازشوں کے ساتھ یہ ہستیاں مخصوص تھیں ان سے برکتیں حاصل کرتے اور خود کو اِسراف اور سرکشی سے بچاتے تھے۔
نسبت ِ سرکار:
(1421)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن اسلم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو بلاکر ان سے سرگوشی فرمائی۔ پھر انہیں لوٹ جانے کو کہا تو وہ صفہ کی جانب چلے گئے۔ وہاں حضرتِ سیِّدُنا عباس، حضرتِ سیِّدُنا عقیل اور حضرتِ سیِّدُناامام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ، امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا (اپنی بیٹی) حضرتِ سیِّدَتُنا امِ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح کا مشورہ کیا۔ پھر فرمایا: ’’مجھے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بتایا کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ارشاد فرماتے سنا کہ قیامت کے دن میرے تعلق ورشتہ کے سوا ہر قسم کا تعلق ورشتہ منقطع ہو جائے گا۔‘‘  (۱)
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ اسی طرح (یعنی حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد) آپ کے اہل بیت اور اولاد اہلِ صفہ وفقرا کی مدد کیا کرتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کرتے ہوئے اہلِ صفہ کے ساتھ میل جول رکھا کرتے تھے۔ ان حضرات میں سے جو کثرت سے اہلِ صفہ کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ان کے ساتھ میل جول رکھتے اور اپنا زیادہ وقت فقرا کے ساتھ گزارتے تھے، وہ حضرتِ سیِّدُنا امام حسن بن علی بن ابی طالب اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث: ۶۲۳۳، ج۳، ص۴۴۔