قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں سے اس شخص یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس چلو۔‘‘ چنانچہ، میں ان کے ساتھ چل پڑا حتی کہ ہم ان کے گھر پہنچ گئے اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شدید گرمی سے بچنے کے لئے نرکل (سرکنڈا) کے بنے ہوئے ایک بلند سائبان کے نیچے تشریف فرما تھے۔ میں ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔ والد صاحب نے گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا: ’’اے ابوبزرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ! کیا آپ (آجکل کے حالات) نہیں دیکھ رہے؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے پہلے یہ بات کی کہ ’’بے شک میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اس بات کو باعث ثواب سمجھتا ہوں کہ میں قریش کے قبیلوں پر غضبناک حالت میں صبح کروں اور اے گروہِ عرب! تم جانتے ہو کہ تمہیں جہالت، (مال واسباب کی) قلت، ذلت اور گمراہی کا سامنا تھا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے تمہیں اسلام اور تمام مخلوق میں سب سے بہتر ذات حضرتِ سیِّدُنا محمد ِمصطفیٰ، احمد ِمجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے بلندی عطا فرمائی اور تمہیں اس مقام ومرتبہ پر پہنچادیا جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔ بے شک دنیا تو ایسی ہی ہے جس نے تمہارے درمیان فساد پیدا کردیا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ شخص جو ملکِ شام میں ہے (یعنی مروان) محض دنیا کی خاطر قتال کررہا ہے اور وہ لوگ جو تمہارے ارد گرد ہیں جنہیں تم قراء سمجھتے ہو بخدا! وہ بھی صرف (حصولِ) دنیا کی خاطر لڑرہے ہیں۔‘‘ جب انہوں نے ہر ایک گروہ کے بارے میں بات کرلی تو میرے والد صاحب نے پوچھا: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کیا حکم دیتے ہیں (کہ اس وقت کیا کیا جائے)؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’آج میں لوگو ں میں کسی کو بہتر نہیں سمجھتا (اس لئے کہ یہ تو) صرف زمین سے چمٹا ہوا ایک گروہ ہے جو پیٹوں کو لوگوں کے اموال سے بھرنا چاہتا اور لوگوں کا خون بہانا ہلکا سمجھتا ہے۔‘‘ (۱)
صدقہ کرنے والے سے افضل:
(1419)…حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عمرو رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اگر کسی شخص کی جھولی دیناروں سے بھری ہوئی ہو اور وہ انہیں (راہِ خدا) میں لٹا رہا ہو جبکہ دوسرا شخص ذِکرُاللّٰہ میں مشغول ہو تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والا (دینار صدقہ کرنے والے سے) افضل ہے۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب اذاقال عند…الخ، الحدیث:۷۱۱۲، ج۶، ص۴۴۶، باختصار۔
السنن الکبری للبیھقی، کتاب قتال اھل البغی، باب النھی عن القتال…الخ، الحدیث:۱۶۸۱۰، ج۸، ص۳۳۴، بتغیر قلیل۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعمیربن حبیب، الحدیث:۱۰۳۹، ص۲۰۵۔