Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
58 - 603
 ’’کثرتِ سجود سے میری مدد کرو (یعنی کثرت سے نوافل پڑھا کرو)۔‘‘  (۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
	حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ اسلمی نضلہ بن عبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو دنیا کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں۔ آپ نے صفہ میں رہائش اختیار فرمائی اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔
مالداری کی ہوس کاخوف:
(1417)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبرزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ ’’مجھے تمہارے پیٹوں اور شرمگاہوں کے بارے میں مالداری کی ہوس اور خواہشات کی گمراہی کا زیادہ خوف ہے۔‘‘  (۲)
(1418)…حضرتِ سیِّدُنا ابومنہال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال بیان کرتے ہیں کہ جب حوادثات زمانہ نے ابن زیاد کو دھتکار دیا تو ملکِ شام میں (خلافت کے لئے) مروان اٹھ کھڑا ہوا جبکہ مکہ مکَّرمہ زَادَہَا اللَّہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میںحضرتِ سیِّدُنا ابن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اٹھ کھڑے ہوئے اور بصرہ میں وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہیں قراء کہا جاتا تھا تو میرے والد شدید غم میںمبتلا ہوگئے اور میرے والد کی تعریف ہی کی جاتی تھی۔ والد ِمحترم نے مجھ سے فرمایا: ’’سرکارِ مدینہ، قرارِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…گناہوں سے کنارہ کشی، مرتے وقت ایمان پر خاتمہ، قبر کے حساب میں کامیابی، حشر میں اعمال کی قبولیت، پل صراط سے بخریت گزر، جنت میں رب کا فضل و بلندیٔ مراتب۔ یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مانگیں اور حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صحابی کو بخشیں، لہٰذا ہم بھی حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) سے ایمان، مال، اولاد، عزت، جنت سب کچھ مانگ سکتے ہیں یہ مانگنا سنت صحابہ ہے حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے لنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہیں گے صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضرت ربیعہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)جنت میں ہی ملیں گے، لہٰذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔
(تجھ سے تجھی کو مانگ لوں تو سب کچھ مل جائے	100سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے )
(تجھ سے تجھی کو مانگ کر مانگ لی ساری کائنات	مجھ ساکوئی گدا نہیں تجھ سا کوئی سخی نہیں )
1…صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجودوالحث علیہ، الحدیث:۴۸۹، ص۲۵۳۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی برزۃ الاسلمی، الحدیث:۱۹۷۹۴، ج۷، ص۱۸۱۔