جاکر دو رکعتیں ادا فرماتے۔ پھر ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس جانے سے پہلے خاتونِ جنت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لے گئے، آپ نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا استقبال کیا، چہرۂ انور اور آنکھوں کو بوسہ دیا اور رونے لگیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تمہیں کس چیز نے رُلایا؟‘‘ عرض کی: ’’میں دیکھ رہی ہوں کہ چہرۂ مبارکہ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے فاطمہ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے والد کو ایسے امر کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ زمین پر کوئی گھر اور خیمہ ایسا نہیں جہاں رات پہنچتی ہے مگر یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے (یعنی دین اسلام کواس میں) ضرور داخل فرمائے گا اس کے ذریعے یا تو انہیں عزت بخشے گا یا ذلیل ورسوا کرے گا۔‘‘ (۱)
خوش نصیبی کی موت:
(1413)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزاہریہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا: ’’امید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے غفلت کی موت نہ دے گاجیسا کہ دوسروں کو دی جاتی ہے۔‘‘ راوی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کے آخری حصہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ حالتِ سجدہ میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صاحبزادی نے (خواب میں) دیکھا کہ والد محترم انتقال فرما چکے ہیں تو فوراً گھبرا کر اٹھیں اور والدۂ محترمہ کو آواز دی اور پوچھا: ’’والد صاحب کہاں ہیں؟‘‘ والدہ نے جواب دیا: ’’نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘ بیٹی نے انہیں آواز دی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ بیٹی نے جگانا چاہا تو حالت ِ سجدہ میں پایا۔ جب حرکت دی توایک جانب گرپڑے کیونکہ ان کی روح پرواز کر چکی تھی۔ (۲)
(1414)…حضرتِ سیِّدُنا ولید بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے: ’’امید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے غفلت کی موت نہ دے گاجیسا کہ دوسروں کو دی جاتی ہے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک غیبی آواز آئی: ’’اے عبدالرحمن!‘‘ حالانکہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسولِ اکرم، نُوْرمجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک، کتاب المناسک، باب الدعاء اذاقدم من سفر، الحدیث:۱۸۴۰، ج۲، ص۱۵۵۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۸۴۱۴، ابوثعلبۃ الخشنی، ج۶۶، ص۱۰۴۔