Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
55 - 603
 جب کہ تم راہ پر ہو۔‘‘ فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے اس آیت (کی تفسیر) کے بارے میںباخبر ذات (یعنی رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے پوچھا تو آپ نے (اس کی تفسیرمیں اس طرح) ارشاد فرمایا: ’’بلکہ تم پر ضروری ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو حتی کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت، خواہشات کی پیروی اور دنیا سے محبت کی جارہی ہے اور ہر صاحب ِ رائے اپنی رائے پسندکررہا ہے تو تم پر اپنی اصلاح ضروری ہے اور لوگوں (کا خیال) چھوڑدو کیونکہ تمہارے بعد صبر کے دن ہیں اور ان ایام میں صبر کرنا ایسا ہی ہے جیسے (ہاتھ میں) انگارہ پکڑنا۔ اس وقت نیکی کرنے والے کو 50آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘
	ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن میں سے 50آدمیوں کے برابر؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے 50آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘  (۱)
جس پر دل مطمئن ہو:
(1411)…حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن مِشکَم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے بتائیے کہ میرے لئے کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام؟‘‘(یہ سن کر) سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور میری طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا: ’’نیکی وہ ہے کہ جس سے نفس کو سکون حاصل ہو اور دل اس پر مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جس سے نہ تو نفس کو سکون حاصل ہو اور نہ ہی دل اس پر مطمئن ہو اگر چہ لوگ تجھے فتویٰ دیں۔‘‘  (۲)
اسلام کی روشنی:
(1412)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن رُوَیْم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک غزوہ سے لوٹے تو مسجد تشریف لے گئے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں اور آپ کویہ بات پسند تھی کہ جب بھی کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو مسجد میں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب الامروالنہی، الحدیث:۴۳۴۱، ج۴، ص۱۶۵۔
	سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، الحدیث:۳۰۶۹، ج۵، ص۴۲۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی، الحدیث:۱۷۷۵۷، ج۶، ص۲۲۳۔