جنت اوراس کی نعمتوں کی خواہش:
(1409)…حضرتِ سیِّدُنا ضمرہ بن حبیب عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَسِیْب سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کچھ عرصہ جہاد میں رہنے کے بعد جب واپس اہل وعیال کے پاس تشریف لائے تو رات کا کھانا کھا کر نمازِ عشا کے لئے مسجد تشریف لے گئے۔ باجماعت نماز ادا فرما کر جب گھر لوٹے تو (نفل) نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔ ایک سورت شرو ع کرتے جب پوری ہوجاتی تو دوسری شرو ع کر دیتے، اسی طرح ساری رات نماز پڑھتے رہے حتی کہ صبح ہوگئی۔ جب صبح کی اذان سنی اور اپنے کپڑے درست کرکے مسجد کی طر ف تشریف لے جانے لگے تو زوجہ محترمہ نے عرض کی: ’’اے ابوریحانہ ! پہلے تو آپ جہاد کے لئے گئے ہوئے تھے اب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ واپس آچکے ہیں کیا میرا آپ پر کوئی حق یا (آپ کے معاملات میں کوئی) حصہ نہیں؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں تمہارا بھی حق ہے۔ لیکن ایک چیز نے مجھے تم سے دور رکھاہے؟‘‘ عرض کی: ’’کس چیزنے آپ کومجھ سے دور رکھاہے؟‘‘ فرمایا: ’’میرا دل مسلسل اس چیز کی خواہش کررہا ہے جس کے لباس اور دگنی نعمتوں کے اوصاف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بیان فرمائے ہیں اور فجر طلوع ہونے تک میرے دل میں تیرے بارے میں کسی قسم کا کوئی خیال پیدا نہ ہوا۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عبادت گزار صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے تھے۔ آپ کا شمار بھی اہلِ صفہ میں کیا جاتا ہے۔
50آدمیوں کے برابرثواب:
(1410)…حضرتِ سیِّدُنا ابوامیہ شعبان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور کہا: ’’اے ابوثعلبہ ! آپ اس آیت ِ مقدسہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ (پ۷، المائدۃ:۱۰۵)ترجمۂ کنزالایمان: تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۲۷۶۴، شمعون، ج۲۳، ص۲۰۲، بتغیر۔