Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
53 - 603
	حضرتِ سیِّدُنا ابوشُرَیْح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یہ حدیث پاک بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’(تیسری یہ ہے کہ) جو آنکھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچے اس پر بھی (جہنم کی) آگ حرام ہے۔‘‘  (۱)
شیطان کاتخت:
(1407)…حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک ابلیس سمندر پر اپنا تخت بچھاتا ہے اور خود پردے میں رہتا ہے تاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے مشابہت اختیار کرے پھر اس کا لشکر (اس کے پاس) رات گزارتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ’’فلاں آدمی کو کون گمراہ کرے گا؟‘‘ اس کے دو چیلے کھڑے ہوتے ہیں۔ شیطان ان سے کہتا ہے: ’’میں تمہیں ایک سال کا عرصہ دیتا ہوں اگر تم اسے گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو تمہارے کام میں وسعت کردوں گا اور اگر (ناکام ہوئے) تو تمہیں سولی چڑھادوں گا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وجہ سے شیطان اپنے کئی چیلوں کو پھانسی دے چکاہے۔  (۲)
کثرتِ سجودکا اہتمام کرو!
(1408)…حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر قرآنِ پاک کے جلد بھول جانے اور حفظ میںدشواری کی شکایت کی تو تاجدارِرسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس چیز کے اٹھانے کی تم میں طاقت نہیں اسے مت اٹھاؤ بلکہ کثرت سجود (یعنی نماز) کا اہتمام کرو۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوعمیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عسقلان تشریف لے آئے اور آپ کثرت سے نوافل پڑھا کرتے تھے۔  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۷۴۱، ج۶، ص۲۶۹۔
	سنن الدارمی، کتاب الجھاد، باب فی الذی یسھرفی سبیل اللّٰہ حارسا، الحدیث:۲۴۰۰، ج۲، ص۲۶۷۔
2…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۲۷۶۴، شمعون ابوریحانۃ الازدی، الحدیث:۵۰۳۸، ج۲۳، ص۲۰۱،
	’’وسعت عنکماالعبث‘‘ بدلہ ’’وضعت عنکم التعب‘‘۔
3…تاریخ مدینہ مشق، الرقم:۲۷۶۴، شمعون ابوریحانۃ الازدی، الحدیث:۵۰۳۷، ج۲۳، ص۲۰۱۔