حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ شمعون ازدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ شمعون ازدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں ایک قول ہے کہ انصاری ہیں۔ آپ بہت زیادہ گریہ وزاری اور مجاہدہ کیا کرتے تھے۔ آپ کا شمار بھی اہل صفہ میں کیا جاتا ہے۔
دو قسم کی آنکھوں پرجہنم کی آگ حرام ہے:
(1406)…حضرتِ سیِّدُنا ابوریحانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میںحضور نبی ٔ کریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ ایک رات ہم نے ایک بلند ٹیلے پر گزاری تو سخت سردی نے ہمیں آلیا حتی کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ ان میں کوئی گڑھا کھودتا اور (سردی سے بچنے کے لئے) اس میں داخل ہوجاتا اور گڑھے کی اطراف ہی اسے کفایت کرتیں (یعنی سردی سے بچاتیں) جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی یہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو ارشاد فرمایا: ’’آج رات جو ہماری حفاظت کرے گا میں اس کے لئے فضل ومرتبہ کی دعا کروں گا۔‘‘ چنانچہ، ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کام کے لئے میں حاضر ہوں۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تم کون ہو؟‘‘ عرض کی: ’’میں فلاں بن فلاں انصاری ہوں۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’قریب ہوجاؤ۔‘‘ وہ قریب ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے کپڑوں کا کچھ حصہ پکڑ کر اس کے لئے دعا فرمائی۔ جب میں نے آپ کو انصاری کے لئے دعا کرتے سنا تو میں نے بھی کھڑے ہوکر عرض کی: ’’میں بھی اس کام کے لئے حاضر ہوں۔‘‘ چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے بھی اسی طرح پوچھا جس طرح انصاری سے پوچھا تھا۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’قریب ہوجاؤ۔‘‘ جیسا کہ اسے قریب ہونے کا حکم ارشاد فرمایا تھا پھر میرے لئے اس دعا کے علاوہ دعا فرمائی جو انصاری کے لئے مانگی تھی۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’راہ خدا میں بیدار رہنے والی اور خوف خدا سے آنسو بہانے والی آنکھ پر (جہنم کی) آگ حرام ہے۔‘‘ راوی فرماتے ہیں: آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تیسری کا بھی ذکر فرمایا لیکن میں بھول گیا۔