Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
51 - 603
 فرمایا: ’’ہمیں گدری (یعنی نیم پختہ) کھجوریں کھلاؤ (۱)۔‘‘
	چنانچہ، انصاری نے کھجوروں کا ایک خوشہ بارگاہِ رسالت میں پیش کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے مل کر اسے کھایا۔ پھر پانی منگوا کر نوش فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن ضرور تم سے اس دن (کی نعمتوں) کے بارے سوال کیا جائے گا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوعَسِیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: امیرالمؤ منین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھجور کا خوشہ پکڑ کر زمین پر مارا حتی کہ کھجوریں حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے بکھرگئیں۔ پھر عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا اس کے بارے میں بھی قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا؟‘‘ (۲) ارشاد فرمایا: ’’ہاں! سوائے تین چیزوں کے روٹی کا ٹکڑا کہ جس سے بھوک مٹ جائے۔ ایسا کپڑا جس سے ستر پوشی کی جاسکے اور ایسا مکان جس میں داخل ہوکر سردی گرمی سے بچا جاسکے۔‘‘  (۳)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…وسوسہ: حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سوال کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں ہے کہ آپ نے سوال کیا کہ کھانے کے لئے کھجوریں منگوائیں۔ علاج وسوسہ: مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ64 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ سوال وہ نہیں جس سے منع فرمایا گیا ہے یعنی ذات کا سوال۔ یہ سوال ایسا ہے جیسے والد اپنی اولاد سے یا مولیٰ (آقا) اپنے غلام سے یا دوست اپنے دوست سے کچھ طلب کرے اس سوال سے تو صاحب ِخانہ کو قیامت تک کے لیے فخر ہوگیا کہ مجھے سرکار، حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اس لائق سمجھا کہ مجھ سے یہ طلب فرمایا۔ لہٰذا یہ احادیث شریف میں تعارض نہیں جس سوال سے ممانعت ہے وہ اور سوال ہے یہ کچھ اور سوال۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ64 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : یعنی یہ کھجوریں اگرچہ نعمتیں ہیں مگر نہایت معمولی جن کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ یوں ہی ماری ماری پھرتی ہیں۔ ’’تعجب ہے کہ ان کا حساب بھی ہوگا‘‘ (امیرالمؤمنین) حضرت عمر (فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا یہ عمل اور یہ سوال انتہائی خوف الٰہی کے باعث تھا کہ جب ان جیسی چیزوں کا بھی حساب ہے تو اعلیٰ چیزوں کا کیا بنے گا۔ ان کا حساب کس قدر سخت ہوگا تحقیر کے لئے یہ سوال نہیں۔
3…شعب الایمان، باب فی تعدید…الخ، الحدیث:۴۶۰۱، ج۴، ص۱۴۳، بتغیرقلیل۔
	المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی عسیب، الحدیث:۲۰۷۹۴، ج۷، ص۳۹۴، بتغیرقلیل۔