Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
50 - 603
دنیاکے خزانوں کی چابیاں:
(1404)…حضرتِ سیِّدُنا ابومُوَیْہِبَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آدھی رات کے وقت سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے (اور مجھے ساتھ لے کر) بقیع کی طرف چل دئیے اور ارشاد فرمایا: ’’اے ابومُوَیْہِبَہ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اہلِ بقیع کے لئے استغفار کروں۔‘‘ چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بقیع میں تشریف لائے اورا ن کے لئے دعائے مغفرت کی۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’اے اہلِ بقیع! تمہیں مبارک ہو کہ تم اس معاملہ میں مبتلا نہیں ہو جس میں لوگ مبتلا ہیں۔ تاریک رات کی مانند فتنے پے درپے امڈ آئے اور ہر بعدوالا فتنہ پہلے والے فتنے سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اے ابومُوَیْہِبَہ! مجھے دنیا کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں (اور یہ اِختیار دیا گیا ہے) کہ جب تک چاہوں دنیا میں رہوں پھر میرے لئے جنت ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’اے ابومُوَیْہِبَہ! میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات اور جنت کو اِختیار کیا۔‘‘ پھر واپس تشریف لے آئے اور اس مرض میں مبتلا ہوگئے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہوا۔  (۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابوعُسَیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
	حضور نبی ٔاکرم، نُوْرمجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا ابوعُسَیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی رات مسجد ِ نبوی میں گزارتے اور اہلِ صفہ کے ساتھ میل جول رکھتے تھے۔
ہرنعمت کے بارے میں سوال ہوگا:
(1405)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعُسَیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک رات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر سے باہر تشریف لائے اور مجھے بلایا۔ میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوگیا (تو مجھے ساتھ لے کر چل دیئے) پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب سے گزرے تو انہیں بھی بلالیا تو وہ بھی ساتھ ہولئے۔ پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے تووہ بھی ساتھ ہولئے۔ پھر چلتے رہے یہاں تک کہ ایک انصاری کے با غ میں داخل ہوگئے اور باغ کے مالک سے ارشاد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی مویہبۃ…الخ، الحدیث:۱۵۹۹۶-۱۵۹۹۷، ج۵، ص۴۱۶، مفہومًا۔