Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
49 - 603
 حضور نبی ٔرحمت، شفیعِ امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو اس میں ہمیں بھی شریک فرما لیا کرتے اور جب صدقہ وغیرہ آتا تو ہمارے پاس بھجوادیتے۔ حضرتِ سیِّدُنا بشیر بن خصاصیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک رات پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر سے باہر تشریف لائے تو میں بھی پیچھے ہولیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بقیع (مدینے کے قبر ستا ن) میں تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’اَلسَّلَامُ عَلَـیْکُمْ دَارَ قَوْمِ مُوْمِنِیْنَ وَاِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ وَاِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ لَقَدْ اَصَبْتُمْ خَیْرًابَجِیْــلًاوَّسَبَقْتُمْ شَرًاطَوِیْـــلًایعنی اے گروہِ مومنین کے گھرو تم پر سلام ہو! بے شک ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں اور ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔ تم نے بڑی بھلائی کو پالیا ہے اور طویل شر پر سبقت لے گئے۔‘‘ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’کون ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’بشیر۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیںقبیلہ ربیعۃ الفرس کے ان لوگوں میں سے چن کر اسلام کی توفیق عطا فرمائی جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اپنے اوپر رہنے والوں سمیت اپنی جگہ سے ہٹ جاتی۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ توارشاد فرمایا: ’’کس چیز نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’مجھے خوف ہوا کہ کہیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو کوئی مصیبت نہ پہنچ جائے یا زمین کا کوئی موذی جانور (سانپ، بچھووغیرہ) تکلیف نہ پہنچادے۔‘‘  (۱)
	حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عبدالکریم عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّحِیْم فرماتے ہیں: ’’انہیں ربیعۃ الفرس اس لئے کہا جاتا ہے کہ ربیعہ کے باپ نزار بن معد کے پاس ایک فرس (یعنی گھوڑا)، ایک چمڑے کا خیمہ اور ایک گدھا تھا۔ اس نے گھوڑا اپنے بڑے بیٹے ربیعہ کو، خیمہ منجھلے (یعنی درمیان والے) بیٹے مضر کو اور گدھا تیسرے بیٹے ایاد کو دے دیا۔ اسی نسبت سے انہیں ربیعۃ الفرس، مضر الحمراء او رایاد الحمار کہا جاتاہے۔‘‘  (۲)
حضرتِ سیِّدُنا ابومُوَیْہِبَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
	حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا ابُومُو  َیْہِبَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  رات مسجد ِ نبوی میں گزارتے اور اہلِ صفہ کے ساتھ میل جول رکھتے تھے۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابۃ، حرف البائ، الحدیث:۳۶۸۶۰، ج۱۳، ص۱۳۱۔
2…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۹۲۲ بشیر بن الخصاصیہ، ج۱۰، ص۳۰۵۔