صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی سیرت، اَحوال، سیاحت وریاضیت اور ان کے آثار سے اِقتباس کے حوالے سے ان کی تصانیف بہت مشہور ہیں۔
میں کتاب کے بقیہ حصے میں فقط تا بعینِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے ذکر پر اِکتفا کروں گا جس طر ح ابن اَعرابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے طبقات نساک کی تالیف میں کیا ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ہر طبقہ میں سے ایک جماعت کے ذکر پر اِکتفا کروں گا اور اگر ان سے مروی کوئی مسند روایت پائی گئی تو وہ بھی ذکر کروں گا اور زیادہ سے زیادہ ایک، دو یا تین حکایات بھی ذکر کروں گا۔ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ہی مدد طلب کرتا اور اس کی بہترین کفایت پر بھروسا کرتا ہوں کیونکہ وہی حقیقی ولی ومددگار ہے۔
دیگر اہلِ صُفّہ کا تذکرہ
اہلِ صفہ اور مسجد ِنبوی کے ان رہائشی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا تذکرہ کہ جنہیں حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوعبدالرحمن سلمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اور حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید بن اعرابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے ذکر نہیں کیا۔
حضرتِ سیِّدُنا بشیر بن خَصاصِیَّہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ونسب کچھ یوں ہے بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن ضباری بن سدوس۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کانام نذیر یا زحم تھا۔ جب ہجرت کرکے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا نام بشیر رکھا اور انہیں صفہ میں ٹھہرایا۔
قبرستان کی دعا:
(1403)…حضرتِ سیِّدُنا بشیر بن خصاصیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا جہدمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور پھر پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’میرا نام نذیر ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں بلکہ تمہارا نام بشیر ہے۔‘‘ پھر مجھے صفہ میں ٹھہرایا۔ لہٰذا