الرِّضْوَان حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قرب میں بیٹھ جاتے، قریش ان کا مزاق اڑاتے اور ایک دوسرے سے کہتے کہ ’’یہ ہیں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اصحاب جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ کہ جن پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمارے درمیان حق وہدایت کے ساتھ احسان فرمایا۔ اگر محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی لائی ہوئی تعلیمات بہتر ہوتیں تو یہ گھٹیا قسم کے لوگ ہم سے سبقت نہ لے جاتے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے علاوہ انہیں خاص نہ فرماتا۔‘‘ اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بارے میں یہ آیت ِ مقدسہ نازل فرمائی:
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ (پ۷، الانعام:۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔ (۱)
حضرتِ سیِّدُنا حافظ ابونُعَیْم اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: اب تک ہم نے ان صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا تذکرہ کیا ہے کہ جنہیں حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوعبدالرحمن سلمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ذکر کیا اور انہیں اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیا اور ان لوگوں میں شمار کیا ہے کہ جنہوں نے صفہ کو ہی اپنا وطن بنایا اور وہیں رہائش اختیار فرمائی۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوعبدالرحمن سلمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ان افراد میں سے ہیں جنہیں صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے مذہب کی عنایت تامہ حاصل تھی اور ان کے قول کے مطابق انہیں اسلافِ متقدمین کے احوال سے بھرپور آگاہی حاصل ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسلاف کی پیروی کرنے والے، ان کے طریقہ کار کو اختیار کرنے والے اور ان کے آثار کی اتباع کرنے والے ہیں۔ آپ نے نام نہاد جاہل بناوٹی صوفیوں اور نفس پرستوں کو اہلِ حق صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے گروہ سے علیحدہ کیا اور ان کی بھرپور تردید فرمائی کیونکہ آپ کے نزدیک تصوُّف حقیقت میں اتباعِ رسول اور مشروع ومروی اَقوال واَفعال پر عمل کرنے کا نام ہے اور آپ نے اسی کی طرف اشارہ کیا اور اسے ہی ظاہر کیا۔ جبکہ معتبر صوفیائے کرام، رُواتِ حدیث اور ائمہ فقہارَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کی پیروی کرنا بھی تصوف ہی ہے۔ اسی لئے میں نے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوعبدالرحمن سلمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے ذکر کردہ حضرات کے ساتھ ان کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ جنہیں محقق وفیاض حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید بن اعرابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے ذکر کیا ہے اور ابن اعرابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی بلند پائے کے راویٔ حدیث اور صوفی بزرگ ہیں۔ نیز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، امروفد النصاری الذین اسلموا، ص۱۵۶۔