Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
469 - 603
منہ کے بل بت گر پڑا:
(2507)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن عطیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ (قبول اسلام سے قبل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے)فرماتے ہیں: ’’حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت کے وقت ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پڑاؤ کئے ہوئے تھے، ہمارے پاس گولائی میں تر اشاہوا ایک بت تھا جسے ہم نے کجاوے میں رکھ لیا، ہم یہاں سے دوسری طرف بھاگ نکلے، ہمارا گزر ریتیلی زمین سے ہوا تو بت گر کر ریت میں دھنس گیا، جب ہم گھاٹ کی طرف لوٹے تو ہم نے بت کو غائب پایا۔ چنانچہ، ہم اس کی تلاش میں چل دیئے، ہم نے اسے ریت میں دھنسا پایا تو نکال لیا۔ میں نے کہا: جو معبود خود کو ریت میں دھنسنے سے نہیں بچاسکتا بہت برا (و جھوٹا) معبود ہے جبکہ ایک بکری میں اتنی سوجھ بوجھ ہوتی ہے کہ دم کے ذریعے اپنی شرم گاہ کو چھپالیتی ہے۔ یہ واقعہ میرے اسلام لانے کا سبب بنا۔ چنانچہ، میں مدینہ منورہ کی طرف لوٹا جبکہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال ظاہری فرماچکے تھے۔‘‘  (۱)
(2508)…حضرت سیِّدُنا عمارہ مَعْوَلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’(زمانۂ جاہلیت میں) کبھی ہم ریت جمع کر کے اس پر دودھ ڈالتے اور اسے پوجنا شروع کردیتے اور کبھی سفید پتھر تلاش کر کے کچھ عرصہ اسے پوجتے پھر اسے پھینک دیتے۔ نیز زمانۂ جاہلیت میں ہم حرم شریف کی اتنی تعظیم کرتے تھے جتنی تم اب بھی نہیں کرتے۔‘‘  (۲)
(2509)…حضرت سیِّدُنا سلم بن رَزِین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’زمانۂ جاہلیت میں ہم مٹی جمع کر کے اس کے درمیان گڑھا بناتے اور اس میں دودھ ڈال کر یہ پڑھتے ہوئے اس کے گرد چکر لگاتے: ’’لَــبَّـیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلاَّ شَرِیْکًا ھُّوَلَکَ تَمْلِکُہُ وَمَامَلَک یعنی اے معبود! ہم حاضر ہیں تیرا شریک صرف وہ ہے جس کا تو مالک ہے جبکہ وہ مالک نہیں۔‘‘  (۳)
(2510)…حضرت سیِّدُنا قرہ بن خالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۰، ابورجاء عمران بن ملحان العطاردی، ج۳، ص۱۴۵-۱۴۶۔
2… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۰، ابورجاء عمران بن ملحان العطاردی، ج۳، ص۱۴۶، باختصار۔
3… البدایۃ والنہایۃ، قصۃ خزاعۃ وخبر عمرو بن لحی…الخ، ج۲، ص۱۲۴، بتغیر۔