جاؤ (وہ اس بارے میں بہتر بتا سکتے ہیں)۔‘‘ چنانچہ، راوی کہتے ہیں: ہم نے حضرت سیِّدُنا ابورجاء عطاردی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: ’’جو جنات رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس پر ایمان لائے تھے کیا ان میں سے کوئی باقی ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، ایک مرتبہ ہم نے ایک مقام پر استراحت کی غرض سے خیمے نصب کئے تو اچانک ایک سانپ کو مضطرب حالت میں دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مرگیا، ہم نے اسے دفن کردیا، اچانک بہت سی آوازیں آنے لگیں کہ تم پر سلام ہو لیکن کوئی نظر نہیں آرہا تھا، میں نے کہا: ’’تم کون ہو؟‘‘ آواز آئی: ’’ہم جن ہیں۔ آپ نے ہم پر جو احسان کیا ہے اس کے بدلے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں نے تم پر کیا احسان کیا ہے؟‘‘ آواز آئی: ’’جس سانپ کو آپ نے دفن کیا ہے وہ ان جنات میں سے آخری جن تھا جنہوں نے حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’آج میر ی عمر 135سال ہے۔‘‘ (۱)
(2506)…حضرت سیِّدُنا وہب بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں: ’’(قبول اسلام سے قبل) جب ہمیں رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت کی خبر پہنچی اس وقت ہم سند نامی پانی کے گھاٹ کے قریب رہائش پذیر تھے، اپنے اہل وعیال کو لے کر ہم ایک درخت کی طرف بھاگ نکلے، میں لوگوں کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا کہ اچانک مجھے ہرن کے تازہ پائے ملے، میں انہیں اٹھاکر اپنی زوجہ کے پاس لایا اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ جوہیں؟ اس نے کہا: ہمارے برتن میں پہلے تو کچھ جو تھے معلوم نہیں کہ اب اس میں کچھ ہے یا نہیں۔ میں نے برتن کو اٹھاکر جھٹکا تو مٹھی بھر جو نکلے، میں نے انہیں دو پتھروں سے پیس لیا، پھر جو اور پائے ایک پتھر کی ہنڈیا میں ڈال دیئے اور ایک اونٹ کی رگ کاٹ کر خون بھی اس میں ڈال دیا، پھر اس کے نیچے آگ جلا دی اور لکڑی سے اسے خوب ہلایا یہاں تک کہ وہ پک گئے، پھر ہم نے اسے کھالیا۔‘‘ کسی نے پوچھا: ’’اے ابورجائ! خون کا ذائقہ کیسا تھا؟‘‘ فرمایا: ’’میٹھا۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، الرقم:۵۸۰۶، ج۴، ص۵۰۴۔
موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الہواتف، الحدیث:۳۵، ج۲، ص۴۵۰۔
2…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۴۶۰، ابورجاء العطاردی، ج۵، ص۲۴۱۔