Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
467 - 603
’’میں اس وقت تک بندے کے حق کی رعایت نہیں کرتا جب تک بندہ میرے حق کی رعایت نہ کرے۔‘‘  (۱)
حضرت سیِّدُنا ابورَجاء عُطارِدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
	حضرت سیِّدُنا ابورجاء عطاردی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے لمبی عمر عطا کی، آپ بہت بڑے عالم ، نیکوکار اور خوشخبری سنا نے والے تھے۔ جونہی رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام اسلام آپ تک پہنچا آپ نے فوراً تصدیق و قبول کے ساتھ لبیک کہااور تادم حیات دین اسلام کے احکامات پر ثابت قدم رہے۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: بارگاہ الٰہی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغام اسلام کو قبول کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
(2503)…حضرت سیِّدُناعمارہ مَعْوَلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابورجاء عطاردی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو فرماتے سنا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جب پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جنت کی دعوت دینے کے لئے مبعوث فرمایا اس وقت میں چھوٹا بچہ تھا۔‘‘  (۲)
سانپ نما جن:
(5-2504)…حضرت سیِّدُنا کثیر بن عبداللّٰہ ابوھاشم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بھی تشریف فرما تھے۔ دو شخص حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ’’ہم کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’پوچھو۔‘‘ عرض کی: ’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو جنات رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس پر ایمان لائے تھے ان میں سے کوئی باقی ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مسکرا کر فرمایا: ’’میرا خیال نہیں تھا کہ کوئی مجھ سے اس بارے میں بھی سوال کرے گا تم حضرت ابورجاء عطاردی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کے پاس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۹۲۲، ج۱۲، ص۲۱۲۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۶۱۳، ج۱۸، ص۲۴۴۔