قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سفر سے واپسی پر اپنے بیٹے ایاس کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’میرے لئے آج کے دن زندہ رہنا مناسب نہیں کیونکہ میں نے خواب دیکھا کہ میں اور میرے والد ماجد ایک مقرر حد کی طرف دوڑ رہے ہیں اور اکٹھے اس تک پہنچے، آج میں اپنے والد کی عمر کو پہنچ چکا ہوں۔‘‘ چنانچہ، اسی دن آپ کا وصال ہوگیا۔ (۱)
(2484)…حضرت سیِّدُنا شبیب بن مہران عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’قوم کے سرداروں کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ وہ دوسروں سے زیادہ مختار اور عقل مند ہوتے ہیں۔‘‘ (۲)
(2485)…حضرت سیِّدُنا شبیب بن شیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے کہا: ’’میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’مجھ سے کیوں محبت کرتے ہو حالانکہ نہ تو میں تمہارا پڑوسی ہوں اور نہ ہی قریبی رشتہ دار۔‘‘
عقل کی اہمیت:
(2486)…حضرت سیِّدُنا خلید بن دعلج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’کچھ لوگ حج و عمرہ کرتے، جہاد کرتے، نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں مگر قیامت کے دن اعمال کا ثواب انہیں ان کی عقلوں کے مطابق دیا جائے گا۔‘‘ (۳)
بربادیٔ اعمال کا سبب:
(2487)…حضرت سیِّدُنا عوام بن حوشب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’دینی معاملات میں جھگڑنا اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔‘‘ (۴)
بہترین نصیحت:
(2488)…حضرت سیِّدُنا علی بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۵۲۴، معاویۃ بن قرۃ، ج۵۹، ص۲۷۴۔ 2…المرجع السابق، ص۲۷۳۔
3… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۱۰، معاویۃ بن قرۃ بن ایاس، ج۳، ص۱۷۲۔
4… تفسیر الطبری، پ۶، سورۃ المائدۃ، تحت الآیۃ:۱۳، ج۴، ص۵۰۰۔