حضرتِ سیِّدُنا ہلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
حضرتِ سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا ہلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اہلِ صفہ میں سے ہیں۔
ایک جنتی:
(1401)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ محبوبِ رَبِّ اَکبر، شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس دروازے سے ایک ایسا شخص داخل ہوگا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نظررحمت سے دیکھتا ہے۔‘‘ چنانچہ،حضرتِ ہلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ داخل ہوئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے ہلال! مجھ پر درود پڑھو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’تم بارگاہِ الٰہی میں کس قدر محبوب ومکرم ہو۔‘‘ (۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابوفَکِیْہَہ یسار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق سے منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا صفوان بن امیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا ابوفَــکِیْہَہ یسار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اہلِ صفہ میں سے ہیں۔
شانِ صحابہ بزبانِ قرآن:
(1402)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو حضرتِ سیِّدُنا خباب، حضرتِ سیِّدُنا عمار، حضرتِ سیِّدُنا صفوان بن امیہ کے آزادہ کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا ابوفَکِیْہَہ یسار، حضرتِ سیِّدُنا صہیب بن سنان اور ان جیسے دیگر کمزور صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اور مجتہد اپنے دل سے۔ (اگرچہ لوگ اس کا فتویٰ دے دیں) یعنی عام لوگوں کے فتوے کا تم اعتبار نہ کرنا کیونکہ ان کے دلوں پر ہمارا ہاتھ نہیں پہنچا اپنے دل و نفس کا فتویٰ قبول کرنا کہ ہمارا فیصلہ ہوگا کہ ہمارا ہاتھ تمہارے دل پر ہے۔
دل کرو ٹھنڈا میرا وہ کف پاچاند سا سینہ پر رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
آنکھ عطا کیجئے اس میں جلا دیجئے جلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں درود
1…الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ، حرف الھاء، الرقم:۹۰۱۰، ج۶، ص۴۳۱۔
کنزالعمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابۃ، حرف الھاء، الحدیث:۳۷۵۴۳، ج۱۳، ص۲۵۹،
دون قولہ مااحبک…الخ۔