Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
459 - 603
 ہوکر صورت حال عرض کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ان لوگوں کا کیا حال جو حدیث بیان کرتے ہیں حالانکہ ہم حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت بابرکت سے فیضیاب اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں لیکن ہم نے ایسی حدیث نہیں سنی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر دوبارہ حدیث بیان کی اور فرمایا: ’’بخدا! ہم وہی احادیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہیں اگرچہ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کچھ بھی گمان کریں یا فرمایا: اگر چہ انہیں ناگوار گزرے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ اپنی زندگی کی تاریک رات میں ان کی صحبت میں نہ رہوں۔‘‘  (۱)
موزوں پر مسح کرنا(۲):
(2474)…حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کے والد محترم سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن، تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور رات ہے۔‘‘  (۳)
حضرت سیِّدُنا مُعاوِیَہ بن قُرَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا ابوایاس معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ دن کے وقت مسکراتے رہتے اور رات میں خوف خدا سے خوب آہ وزاری کرتے۔
(2475)…حضرت سیِّدُنا حجاج بن اسود عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’راتوں میں رونے اور دن کے وقت ہنسنے والے کی طرف کون میری راہ نمائی کرے گا۔‘‘  (۴)
(2476)…حضرت سیِّدُنا تمام بن نجیح عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند لابی عوانۃ، باب حضر بیع البر بالبر…الخ، الحدیث:۵۳۹۳، ج۳، ص۳۸۰۔
2…موزوں پر مسح سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت جلداول صفحہ362تا369 کا مطالعہ کیجئے!
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۳۰، مسلم بن یسار، ج۵۸، ص۱۲۴۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار الحسن بن ابی الحسن، الحدیث:۱۶۷۲، ص۲۹۶۔