Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
458 - 603
 مسکرادیئے اور فرمایا: ’’مجھ سے مسکرانے کی وجہ نہیں پوچھوگے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’امیرالمؤمنین! آپ کیوں مسکرائے؟‘‘ فرمایا: ’’اس لئے کہ ایک مرتبہ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی جگہ پانی منگواکر وضو کیا جس طرح میں نے کیا پھر مسکرادیئے اور ارشاد فرمایا: ’’مجھ سے مسکرانے کی وجہ نہیں پوچھوگے؟‘‘ ہم نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کیوں مسکرائے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میرے مسکرانے کی وجہ یہ ہے کہ (وضو میں) جب بندہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے چہرے سے صادر ہونے والے گناہ، اسی طرح بازو دھوتے وقت بازوؤں کے، سر کا مسح کرتے وقت سر کے اور پاؤں دھوتے وقت پاؤں کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔‘‘  (۱)
سودی(۲) کاروبار ناجائز ہے:
(2473)…حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں ایک جماعت میں بیٹھا تھا، حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بھی تشریف فرما تھے، اتنے میں حضرت سیِّدُنا ابوالاشعث رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ تشریف لے آئے، لوگ ان کی طر ف متوجہ ہوئے اور ’’ابوالاشعث ابوالاشعث!‘‘ کہنے لگے (جب آپ بیٹھ گئے تو) میں نے کہا: ’’اے ابوالاشعث! (ہمیں) اپنے بھائی حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حدیث سنائیے!‘‘ چنانچہ، فرمایا: ہم ایک غزوہ میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ تھے، ہمیں کثیر مال غنیمت حاصل ہوا اس میں چاندی کے برتن بھی تھے۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ’’برتن لوگوں کو ان کے عطیات کے عوض فروخت کردو۔‘‘ جب حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بات پہنچی تو آپ کھڑے ہوگئے اور حدیث بیان کی کہ ’’رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سونا سونے کے عوض، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جوکے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض بیچنے سے منع فرمایا مگر یہ کہ برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ بیچو تو جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود  کا کاروبار کیا۔‘‘ چنانچہ، لوگوں نے جو کچھ خریدا تھا واپس لوٹا دیا۔ ایک شخص نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار، مسلم بن یسار عن حمران، الحدیث:۴۲۰، ج۲، ص۷۴۔
2…سود سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطوعہ1182 صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت جلددوم صفحہ765تا778 اور 92صفحات پر مشتمل مطبوعہ رسالہ ’’سود اور اُس کا علاج‘‘ کا مطالعہ کیجئے!