Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
457 - 603
سے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس قول: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس عورت پر رحم فرمائے اس کی اور حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمایش میں تھوڑا سافر ق ہے‘‘ سے میری الجھن دور نہ ہوئی۔  (۱)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار
سے مروی اَحادیث
	حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور ان سے احادیث روایت کیں۔ تابعین میں سے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ، حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین اور حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے احادیث روایت کی ہیں۔ چند روایات درج ذیل ہیں:
(2470)…حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار حضرت سیِّدُنا حمران بن ابان کی سند سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔاکرم، رسول محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جسے کوئی بندہ صدق دل سے پڑھ لے تو اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔ وہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔‘‘  (۲)
سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا عشق رسول:
(72-2471)…حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حمران بن ابان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ چہرہ اور بازو دھوئے، سر کا مسح کیا اور پاؤں دھوئے پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۶۵۸، عابدۃ من البحرین اوالیمامۃ، ج۴، ص۷۲۔
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الایمان، باب فضل الایمان، الحدیث:۲۰۴، ج۱، ص۲۱۳۔