لوگوں کو ایک مکان کی طرف آتے جاتے دیکھا تو میں بھی اس طر ف چل پڑا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت موٹا لباس پہنے غمزدہ و پریشان حالت میں مصلے پر بیٹھی ہے، زیادہ بات بھی نہیں کرتی جبکہ اس کی اولاد، رشتہ دار، غلام اور دیگر لوگ خرید و فروخت اور تجارت میں مشغول تھے۔ چنانچہ، اپنی حاجت پوری کرنے کے بعد میں اس عورت کے پاس گیا اور اسے الوداع کہا تو وہ بولی: ’’مجھے آپ سے کچھ کام ہے، اگر دوبارہ کسی حاجت کے لئے یہاں آنا ہوتو ہمارے ہاں قیام کرنا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: ’’میں واپس لوٹ آیا اور کچھ عرصہ تک اپنے وطن میں قیام پذیر رہا پھر کسی حاجت کی غرض سے وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو اس عورت کے گھر کی طرف گیا وہاں سابقہ حالات دیکھنے کو نہ ملے اور نہ ہی گھر میں کسی کو آتے جاتے دیکھا، دستک دی تو ایک عورت کے ہنسنے اور گفتگو کرنے کی آواز سنائی دی۔ چنانچہ، میرے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں گھر میں داخل ہوگیا، دیکھا کہ وہی عورت عمدہ لباس زیب تن کئے ہوئے اچھی حالت میں بیٹھی تھی، مگر اکیلی تھی کوئی بھی اس کے پاس نہ تھا، میں اس کے حالات سے ناواقف تھا، لہٰذا پوچھا: ’’میں نے تمہیں دوحالتوں میں دیکھا تو مجھے تعجب ہوا، ایک تیری وہ حالت تھی جو پہلی مرتبہ آنے پر دیکھنے کو ملی اور ایک یہ حالت ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’آپ تعجب میں نہ پڑیں پہلی حالت جو آپ نے ملاحظہ کی خیر وخوشحالی کی تھی، اس میں اولا د، نوکر چاکر، مال وتجارت میں مجھے کبھی خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جب بھی کسی چیز کی تجارت کی نفع ہی اٹھایا (اس قدر آسائش و راحت دیکھ کر) میں خوف زدہ تھی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں میرے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے، اسی وجہ سے غمزدہ وپریشان حال تھی اور کہتی تھی کہ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں میرے لئے کوئی بھلائی ہے تو وہ ضرور مجھے آزمایش میں مبتلا کرے گا۔ پس آپ دیکھ رہے ہیں کہ اولاد، نوکر چاکر اور مال و دولت کے معاملے میں مجھے پے در پے مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور میرے پاس ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا، لہٰذا مجھے امید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے اسی لئے مجھے آزمایش میں مبتلا کیا اور یاد رکھا۔ اس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میرا دل باغ باغ ہوگیا۔‘‘
حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: اس واقعہ کی وجہ سے میں بڑا پریشان تھا کیوں کہ عادتاً ایسانہیں ہوتا(کہ خوشحالی میں بندہ غمزدہ اور آزمایش میں خوش و خرم ہو)، لہٰذا جب واپس لوٹا تو اس کے متعلق راہ نمائی کی غرض