اللّٰہِ الْغَفَّار کو وصال کے ایک سال بعد میں نے خواب میں دیکھ کر سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، میں نے عرض کی: ’’آپ نے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟‘‘ فرمایا: ’’میرا وصال ہوچکا ہے میں سلام کا جواب کیسے دوں؟‘‘ میں نے پوچھا: ’’وفات کے دن آپ کی کیا کیفیت تھی؟‘‘ فرمایا: ’’خوف و ہراس اور شدید مصائب نے مجھے گھیرلیا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’اس کے بعد کیا ہوا۔‘‘ فرمایا: ’’کریم ذات کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ رب کریم عَزَّوَجَلَّ نے نیکیوں کو شرف قبولیت بخشا اور برائیوں سے درگزر فرما کر انہیں نیکیوں سے بدل دیا۔‘‘ حضرت سیِّدُنامالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار اسے بیان کرتے ہوئے سسکیاں لے لے کر روئے اور بے ہوش ہوگئے، کچھ دنوں بعد بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں دار فانی سے کوچ کرگئے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا دل پھٹ گیاہے۔ (۱)
(2468)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن سوید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سال سفر مکہ کے دوران میں حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی صحبت میں رہا، اس دوران میں نے ان کی زبان سے کوئی بات نہیں سنی۔ جب ہم ’’ذات عرق‘‘ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں ایک راویت بیان کی کہ بروزقیامت ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں حاضر کیا جائے گا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ (فرشتوں سے) ارشاد فرمائے گا: ’’اس کی نیکیاں دیکھو۔‘‘ نامۂ اعمال دیکھا جائے گا تو اس میں کوئی نیکی نہیں ہوگی۔ پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’اس کی برائیاں دیکھو۔‘‘ اس کے نامۂ اعمال میں بے شمار برائیاں ہوں گی۔ چنانچہ، اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا۔ اسے جہنم کی طر ف لے جایا جائے گا تو وہ مڑ کر دیکھے گا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’اسے واپس لے آؤ۔‘‘ پوچھے گا: ’’تو نے مڑکر کیوں دیکھا؟‘‘ عرض کرے گا: ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے اچھا گمان رکھتا تھا یا مجھے تیری رحمت سے امید تھی۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تو نے سچ کہا۔‘‘ چنانچہ، اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ (۲)
انوکھی حکایت:
(2469)…حضرت سیِّدُنا عثمان بن عبدالحمید بن لاحق بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ایک مرتبہ میں تجارت کی غرض سے بحرین ویمامہ گیا، اچانک میں نے کچھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۳۰، مسلم بن یسار، ج۵۸، ص۱۴۹۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار خلید العصری، الحدیث:۱۳۹۷، ص۲۶۰۔