(2463)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ماجد کے پاس ایک لڑکا رہتا تھا جو نماز نہیں پڑھتا تھا اور والد صاحب اسے سرزنش نہیں کرتے تھے۔ میں نے عرض کی: ’’آپ اسے تنبیہ کیوں نہیں کرتے؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے سمجھ نہیں آتا اس کے ساتھ کیا سلوک کروں کیونکہ یہ مجھ پر غالب آچکا ہے۔‘‘ (۱)
ریاکاری سے بچو!
(2464)…حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرمایا کرتے تھے: ’’ریاکاری سے بچو کیونکہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں عالم جہالت کا اظہار کرتا ہے اور اسی گھڑی میں شیطان اس سے لغزش کرواتا ہے۔‘‘ (۲)
سب سے زیادہ لذیذ چیز:
(2465)…حضرت سیِّدُنا عمر بن ابی سلمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’حقیقی لذت کے خواہش مندوں کو تنہائی میں بارگاہ الٰہی میں مناجات کرنے سے زیادہ لذیذ کوئی چیز میسر نہیں ہوتی۔‘‘ (۳)
بیماری بھی فائدے مند ہے:
(2466)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے جب کوئی بیماری سے صحت یاب ہوتا تو اس سے کہا جاتا آپ کو گناہوں سے خلاصی مبارک ہو۔‘‘ (۴)
کریم ذات کا کرم:
(2467)…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۵۹، مسلم بن یسار، ج۷، ص۱۴۰۔
2…سنن الدارمی، باب اجتناب اہل الاہواء، الحدیث:۳۹۶، ج۱، ص۱۲۰۔
3…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب العزلۃ والانفراد، الحدیث:۱۷۶، ج۶، ص۵۳۸۔
4…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام عکرمۃ، الحدیث:۴۲، ج۸، ص۲۹۳۔