رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار حج کے لئے گئے ہوئے تھے اور اپنی رہائش گاہ میں بیٹھے کھانے وغیرہ میں مصروف تھے کہ اچانک ایک عورت نے آکر کوئی چیز طلب کی، آپ نے اسے کچھ دے دیا۔ اس نے کہا: ’’یہ میرا مطلوب نہیں میں تو وہ چاہتی ہوں جو ایک عورت اپنے شوہر سے چاہتی ہے۔‘‘چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے ہاتھ میں جو کچھ تھا اسے ایک طرف ڈال کر جلدی جلدی وہاں سے تشریف لے گئے۔ جب وہاں سے نکل گئے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! میں اس مقصد کے لئے تو یہاں نہیں آیا۔‘‘ (۱)
برا لباس:
(2461)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’جب کوئی لباس پہن کر تم یہ خیال کرو کہ ان کپڑوں میں تم دوسرے کپڑوں کی بنسبت اچھے لگتے ہو تو (جان لو کہ) یہ لباس تمہارے لئے بہت برا ہے۔‘‘ (۲)
اہل بصرہ کا سردار:
(2462)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن صبیح عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مکحول رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اہل بصرہ سے فرمایا: اے بصرہ والو! میں نے تمہارے ایک سردار کو دیکھا، وہ کعبہ معظمہ میں داخل ہوا اور سامنے والے دوستونوں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد سجدے میں اس قدر رویا کہ آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی۔ میں نے اسے یہ کہتے سنا: ’’(اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!) میرے گزشتہ گناہ اور برے اعمال سے درگزر فرما۔‘‘ دیکھا تو وہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ دیرجماجم کے معرکہ (۳) میں شرکت کی وجہ سے رو رہے تھے (کیونکہ اس جنگ میں شرکت کو فتنہ میں شرکت سمجھتے تھے)۔ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۳۰، مسلم بن یسار، ج۵۸، ص۱۴۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبارمطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۸۹، ص۲۵۹۔
3…دَ یْرُجَمَاجِم: فرات کی جانب مغرب کوفہ سے تقریباً 7فرسخ (تین میل سے زائد، 18ہزار فٹ) کے فاصلے پر واقع ایک مقام ہے۔(اردو دائرۂ معرف اسلامیہ، ج۹، ص۵۳۷) یہاں حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن محمد بن اشعث رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اور حجاج بن یوسف کے مابین ۸۲ یا ۸۳ ہجری میں جنگ ہوئی تھی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی، الجزء السادس، باب احداث سنۃ اثنتین وثمانین، ص۸-۹)
4…الزہد لہناد بن السری، باب البکائ، الحدیث:۴۶۳، الجزء الاول، ص۲۶۷۔