Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
451 - 603
الْغَفَّارنے فرمایا: ’’نہیں معلوم کہ بندے کے ایمان کی حقیقت کیا ہے کیونکہ وہ اس چیزکو ترک نہیں کرتا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے۔‘‘  (۱)
(2453)…حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ’’میرے پاس اس کے سوا کوئی بڑا عمل نہیں ہے کہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے رحمت کی امید رکھتا اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا:مَا شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ! جو شخص کسی چیز سے ڈرتا ہے تو اس سے پرہیز کرتا اوراحتیاط برتتا ہے اور جس کی امید رکھتا ہے اس کی طلب میں کوشاں رہتا ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا خوف کرنا کیسا ہے حالانکہ جب اس کے سامنے کوئی قابل شہوت چیز پیش کی جاتی ہے تو خوف رکھنے کے باوجود اسے ترک نہیں کرتا یا کسی آزمایش میں مبتلا ہو تو امید رکھنے کے باوجود صبر نہیں کرتا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا معاویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اس وقت اپنے نفس کی بڑائی بیان کی جب مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔‘‘  (۲)
(2454)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’اس وقت تک حدیث قدسی بیان نہ کرو جب تک اس کا ماقبل و مابعد نہ جان لو۔‘‘  (۳)
خاموش رہنے سے بہتر:
(2455)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابواِدریس کے بیٹے عائذاللّٰہ نے اپنے والد سے عرض کی: ’’اے اباجان! کیا آپ کو حضرت سیِّدُنا ابوعبداللّٰہ مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی طویل خاموشی تعجب میں مبتلا نہیں کرتی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’اے بیٹے! اچھی بات کرنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’بری با ت کہنے سے خاموشی اختیارکرنا بہتر ہے۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمدبن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۲، ص۲۶۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۰، ص۲۶۱-۲۶۰۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، ما قالوا فی البکاء من خشیۃ اللّٰہ، الحدیث:۶۷، ج۸، ص۳۰۵۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۱۵، ص۲۶۳-۲۶۲۔