Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
450 - 603
 الْغَفَّار کو نماز پڑھتے دیکھتا تو یوں لگتا جیسے میخ ہو، بالکل حرکت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ان کے کپڑوں میں حرکت پیدا ہوتی۔ حضرت سیِّدُنا معا ذ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیا ن کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نماز میں ایک پاؤں پر زور نہیں دیتے تھے۔  (۱)
(2449)…حضرت سیِّدُنا عبدالحمید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ میں نے حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کو سجدہ میں دیکھا آپ یہ دعا مانگ رہے تھے: ’’(اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!) جب میں تجھ سے ملاقات کروں تو تُو مجھ سے راضی ہونا۔‘‘  (۲)
(2450)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’اس شخص کی طرح عمل کرو جسے اس کا عمل ہی نجات دلائے گا اور ذات باری تعالیٰ پر اس شخص کی طرح بھروسا رکھو جسے صرف مقرر کردہ حصہ ہی ملتا ہے۔‘‘  (۳)
امید اور خوف رکھنے والا:
(2451)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: ’’جو شخص کسی چیز کی امید کرتا ہے تو اس کی طلب میں کوشاں رہتا ہے اور جو کسی چیز سے ڈرتا ہے اس سے دور بھاگتا ہے، نہیں معلوم بندے کا امید کرنا کیسا ہے حالانکہ جب اس پر کوئی آزمایش آجائے تو امید رکھنے کے باوجود اس پر صبر نہیں کرتا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا خوف کرناکیسا ہے حالانکہ جب اس کے سامنے کوئی قابل شہوت چیز پیش کی جاتی ہے تو خوف رکھنے کے باوجود اسے ترک نہیں کرتا۔‘‘  (۴)
ایمان کا تقاضا:
(2452)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۵۹، مسلم بن یسار، ج۷، ص۱۳۹۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۳۹۰، ص۲۵۹۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۴، ص۲۶۱۔
4…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب حسن الظن باللّٰہ، الحدیث:۹۱، ج۱، ص۹۸۔