نیکی اور گناہ کی پہچان:
(1400)…حضرتِ سیِّدُنا وابِصَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں بارگاہِ رسالت میں اس ارادے سے حاضر ہوا کہ حضور نبی ٔاکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہر قسم کی نیکی اور برائی کے بارے میں پوچھوں گا۔ چنانچہ، میں لوگو ں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے کہا: ’’اے وابِصَہ! رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دور رہو۔‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے چھوڑدو اور قریب ہولینے دو کیونکہ مجھے یہ بات زیادہ محبوب ہے کہ لوگوں کی بنسبت میں زیادہ قریب ہوکر بیٹھوں۔‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے وابصہ! قریب آجاؤ۔‘‘ چنانچہ، میں اتنا قریب ہوا کہ میرے گھٹنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گھٹنوں سے مس ہوگئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے وابصہ! میں تمہیں بتاؤں کہ تم کس چیز کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بتادیجئے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہو۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی انگلیاں جمع کرکے میرے سینے پر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے وابصہ! اپنے دل اور اپنے نفس سے پوچھو! نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو اور طبیعت جمے اور گناہ وہ ہے جو طبیعت میں چبھے اور دل میں کھٹکے اگرچہ لوگ تمہیں فتویٰ دیں یا تم سے لیں۔‘‘ (۱) (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث وابصہ بن معبد الاسدی، الحدیث:۱۸۰۳۳، ج۶، ص۲۹۲۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی مِراٰۃُ الْمَناجِیْح، جلد4،ص235پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ غیبی خبر ہے کہ حضرت وابصہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) جو سوال دل میں لے کر آئے تھے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے ان کے بغیر عرض کئے ہوئے ارشاد فرمادیا، معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں دلوں کے حال پر مطلع فرمایا ہے، کیوں نہ ہو انہیں تو پتھروں کے دلوں پر اطلاع ہے کہ فرماتے ہیں اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے۔ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے حضرت وابصہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر ان کے قلب کو فیض دیا جس سے ان کا نفس بجائے امارہ کے مطمئنہ ہوگیا اور دل خطرات شیطانی، وسوسوں سے پاک و صاف ہوگیا۔ صوفیاء کرام جو مریدوں کے سینے پر ہاتھ مار کر یا توجہ ڈال کر انہیں فیض دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث بھی ہے۔ (جس پر دل مطمئن ہو) یعنی آج سے اے وابصہ گناہ اور نیکی کی پہچان یہ ہے کہ جس پر تمہارا دل و نفس مطمئنہ جمے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل و نفس مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہوگا، یہ حکم حضرت وابصہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے لئے آج سے ہوگیا، یہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ہاتھ شریف کا اثر ہوا، ہم جیسے لوگوں کو یہ حکم نہیں، یہاں (صاحب) مرقات نے فرمایا کہ غیر مجتہد یعنی مقلد تو اپنے امام سے فتویٰ لے …