عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار جب گھر میں داخل ہوتے تو سب گھروالے خاموش ہوجاتے کسی قسم کی گفتگو نہ کرتے لیکن جب آپ نماز شروع کردیتے تو وہ باتوں میں مشغول ہوجاتے اور ہنستے۔‘‘ (۱)
(2444)…حضرت سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار جب نماز پڑھ رہے ہوتے تو یوں دیکھائی دیتے گویا پڑا ہوا کپڑا ہے (یعنی اس قدر خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے کہ بالکل حرکت نہ کرتے)۔‘‘ (۲)
(2445)…حضرت سیِّدُنا ابن عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار جب نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو بھی یوں لگتا جیسے نماز میں ہیں۔‘‘ (۳)
(2446)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ ’’ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار اس قدر کثرت سے سجدے کیا کرتے تھے کہ (کثیر سجدوں کے سبب) ان کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ حضرت سیِّدُنا ابوایاس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ تعزیت کے لئے آئے اور اسے معمولی سمجھا تو حضر ت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑائی بیان کرنے لگے۔‘‘ (۴)
(2447)…حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ’’تم میرے پاس آئے ہو حالانکہ میں اپنے جسم کا کچھ حصہ دفن کر رہا ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا معاویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ طویل سجدے کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے سامنے کے دو دانتوں میں پیپ پڑگئی تھی۔ چنانچہ، جب وہ گر گئے تو آپ نے انہیں دفن کردیا۔ (۵)
(2448)…حضرت سیِّدُنا عون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۱۶، ص۲۶۳۔
2…شعب الایمان، باب فی الصلوات، الحدیث:۳۱۵۸، ج۳، ص۱۴۸۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۳۰، مسلم بن یسار، ج۵۸، ص۱۳۵۔
4…الزہد لابن مبارک، باب الہرب من الخطایاوالذنوب، الحدیث:۳۰۵، ص۱۰۲۔
5…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۰، ص۲۶۰۔