Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
448 - 603
(2438)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: ایک روز میرے والد محترم حضرت سیِّدُنامسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نماز میں مشغول تھے کہ اچانک ایک شامی گھر میں داخل ہوگیا سب لوگ گھبرا کر اس کے گرد جمع ہوگئے، جب معاملہ رفع دفع ہوگیا تو میری والدۂ ماجدہ نے والد صاحب سے عرض کی: ’’ایک شامی گھر میں داخل ہوا، سب لوگ گھبرا گئے لیکن آپ نے اس طرف توجہ ہی نہیںکی؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے تو پتا ہی نہیں چلا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا معتمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار اپنے اہل خانہ سے فرماتے : ’’جب تمہیں کوئی حاجت پیش آئے تو آپس میں گفتگو کر لینا میں نماز میں مشغول ہوتا ہوں۔‘‘  (۱)
(2439)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے جب بھی اپنے والد محترم حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کو نماز پڑھتے دیکھا تو سمجھا کہ بیمار ہیں۔‘‘  (۲)
(2440)…حضرت سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار جب گھر میں نماز شروع کرتے تو اہل خانہ سے فرماتے: ’’تم گفتگو کرتے رہو میں تمہاری باتیں نہیں سنتا۔‘‘ (۳)
(2441)…حضرت سیِّدُنا عون بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’ایک بارحضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک مسجد کی دیوار گر گئی لیکن انہیں پتا تک نہ چلا۔‘‘  (۴)
(2442)…حضرت سیِّدُنا میمون بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کو دورانِ نماز کبھی بھی اِدھراُدھر متوجہ ہوتے نہیںدیکھا، ایک مرتبہ مسجد کا ایک ستون گرگیا، اس کے گرنے سے اہل بازار میں کھلبلی مچ گئی جبکہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار مسجد میں نماز پڑھتے رہے اور اس طرف بالکل بھی توجہ نہ کی۔‘‘  (۵)
(2443)…حضرت سیِّدُنا عبدالحمید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۳۰، مسلم بن یسار، ج۵۸، ص۱۳۴۔
2…المرجع السابق، ص۱۳۵۔	3…المرجع السابق، ص۱۳۴۔	4…المرجع السابق، ص۱۳۵۔
5…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۹، ص۲۶۲۔