کرنے لگیں گے۔ میری امت میں 30جھوٹے ہوں گے وہ سب گمان کریں گے کہ وہ اللّٰہ کے نبی ہیں حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا ان کا مخالف انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم آجائے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار
حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ نگاہ عبرت سے عجائبات کائنات کا مشاہدہ کرنے والے، صاحب بصیرت، مجاہد اورنفس کی اصلاح کے معاملے میں جلدی کرنے والے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوکر حمایت الٰہی حاصل کرنے اور بلند مرتبے کے حصول کی کوشش کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
(2436)…حضرت سیِّدُنا جعفر بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے عرض کی گئی: ’’آپ کو نماز میں کبھی ادھر اُدھر متوجہ ہوتے نہیں دیکھا گیا۔‘‘ فرمایا: ’’تمہیں کیا پتا کہ میرا دل کہاں ہوتا ہے؟‘‘ (۲)
عبادت ہوتو ایسی:
(2437)…حضرت سیِّدُنا حبیب بن شہید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار اس قدر انہماک کے ساتھ نماز پڑھتے کہ اپنے قرب و جوار کی بھی خبر نہ ہوتی ایک بار نماز میں مشغول تھے کہ قریب آگ بھڑک اٹھی لیکن انہیں احساس تک نہ ہوا حتی کہ لوگوں نے آکر آگ بجھائی۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کردیتا ہے۔ مگر فتنہ گر گمراہ عالم ہزار ہا خاندانوں کی روحانی زندگی تباہ کر ڈالتا ہے۔ اس لیے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے خصوصیت سے ان پر خوف ظاہر فرمایا ۔‘‘ اور ’’قیامت تک نہ اٹھے گی‘‘کے تحت فرماتے ہیں: ’’حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کے قتل کے وقت سے مسلمانوں میں کشت و خون شروع ہوا ہے۔ آج تک تلوار میان میں نہیں پہنچی یہ ہے اس مخبر صادق صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا علم اور یہ ہے ان کی خبر کی تصدیق ۔‘‘
1…سنن ابی داود، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، الحدیث:۴۲۵۲، ج۴، ص۱۳۲۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۱۱، ص۲۶۲۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مسلم بن یسار، الحدیث:۱۴۰۱، ص۲۶۱۔