کا خوف کرتا ہوں اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو ان سے روز قیامت تک نہ اٹھے گی(۲)۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکوں سے نہ مل جائیں حتی کہ کچھ قبیلے بتوں کی پوجا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…’’مشرق و مغرب دیکھے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’ساری زمین مجھے مختصر کرکے دکھادی گئی میرے سامنے رکھ دی گئی یہاں مرقاۃ میں ہے کہ ساری زمین حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے سامنے کردی گئی جیسے آئینہ دار کے ہاتھ میں آئینہ ( مرقات) حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کو مشرق و مغرب کی سلطنت عطا کی گئی (دیکھو اشعۃ اللمعات) اس سے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان مشرق و مغرب حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی نظر میں بھی ہیں اور حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے تصرف میں بھی، سمیٹ دینے اور دکھا دینے سے یہ دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں، حاضر ناظر کے یہ ہی معنی ہیں مشرق و مغرب دیکھنے کے معنی ہیں کہ میں نے ساری زمین دیکھ لی اس کا کوئی ذرہ چھپا نہیں رہا۔ یہاں سمیٹ دینے دکھادینے کا ذکر تو ہوا مگر بعد میں چھپالینے کا ذکر نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے سامنے ہے۔‘‘ اور صفحہ12پر ’’جہاں تک میرے لئے سمیٹ دیا گیا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’ساری روئے زمین پر میری امت کی سلطنت ہوگی زمین کے اکثر حصہ پر مسلمانوں کی بادشاہت رہ چکی ہے قریب قیامت حضرت امام مہدی و عیسی عَلَـیْہِ السَّلَام کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر مسلمانوں کی بادشاہت ہوگی۔‘‘اور ’’سرخ و سفید‘‘کے تحت فرماتے ہیں: ’’سرخ خزانہ سے مراد ہے کسریٰ شاہ فارس کے خزانے جن میں سونا زیادہ تھا اور سفید خزانہ سے مراد ہے روم کے خزانہ جن میں چاندی زیادہ تھی یہ دونوں ملک حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کے زمانہ میں فتح ہوئے اور حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی پیش گوئی پوری ہوئی۔‘‘اور ’’جوان کی اصل اکھیڑ دے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’بیضہ کے معنی ہیں انڈا بھی اور خود بھی پھر اسے بمعنی اصل استعمال کیا جاتا ہے یہاں اس سے مراد مسلمانوں کا وہ دارالسلطنت ہے جس کی تباہی سے مسلم قوم بالکل تباہ ہوجائے خواہ مدینہ منورہ مراد ہو یا کوئی اور جگہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کی اس دعا کا ہی اثر ہے کہ اگرچہ مسلمانوں پر کبھی کفار غالب آجاتے ہیں مگر اَ لْحَمْدُلِلّٰہ انہیں فنا نہیں کرسکتے اور نہ فنا کرسکیں گے۔ مسلمان اگرچہ گنہگار ہیں مگر حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اس دعا کے سایہ میں ہیں۔ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے تیسری دعا اور بھی مانگی تھی جس کا ذکر دوسری احادیث میں ہے کہ مسلمانوں میں آپس میں جنگ اور خونریزی نہ ہو یہ متفق رہیں۔ اس کے متعلق آگے ارشاد ہے خیال رہے کہ اس حدیث میں کفار کی سلطنت کی نفی نہیں بلکہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی نفی ہے کفار مسلمانوں پر بادشاہ تو ہوجائیں گے مگر انہیں بالکل مٹا نہ سکیں گے کہ زمین پر ایک مسلمان نہ رہے۔‘‘اور ’’فیصلہ فرما دیتے ہیں تو وہ رد نہیں ہوسکتا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اے محبوب (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)! نبی کو چاہیے کہ ایسی د عا نہ فرمائیں جو ہمارے فیصلے کے خلاف ہو کیونکہ ہمارے فیصلہ کے خلاف ہو نہیں سکتا اور ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ نبی کی دعا خالی جاوے لہٰذا نبی ایسی دعا کریں ہی نہیں آپ کی یہ دونوں دعائیں تو قبول ہیں مگر تیسری دعا کرنے کی آپ کو اجازت نہیں۔‘‘اور صفحہ 13پر ’’کوئی دشمن مسلط نہ کروں گا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’مسلمان خود آپس میں لڑتے بھڑتے رہیں گے اس لیے کبھی کمزور بھی ہوجائیں گے اور تکلیف بھی پائیں گے اس کا ظہور آج تک ہورہا ہے اس گئے گزرے زمانہ میں بھی مسلمانوں کی اتنی بادشاہتیں موجود ہیں کہ اگر یہ سب متفق ہوجائیں تو کوئی طاقت انہیں دبا نہ سکے مگر یہ ایسے نیک ہیں کہ دو ایک نہیں ہوتے۔‘‘
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7،صفحہ203پر ’’گمراہ گر پیشواؤں کا خوف کرتا ہوں‘‘کے تحت فرماتے ہیں: ’’علماء فرماتے ہیں کہ تلوار کے فتنے سے علمی فتنہ بڑا ہے۔ خونخوار ظالم ایک آدمی کی زندگی ختم …