Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
444 - 603
لئے سات دن اورثیبہ (غیرکنواری) کے لئے تین دن ہیں(۱)۔‘‘  (۲)
ایمان کی لذت:
(2432)…حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی لذت پالے گا: (۱)…جو بندے سے صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرے۔ (۲)…اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوں۔ (۳)…کفر میں لوٹ جانا جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے بچا لیا ایسا برا جانے جیسے آگ میں ڈالا جانا۔‘‘  (۳)
عیدین کا تحفہ:
(2433)…حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’عیدین کو تہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)،تقدیس (سُبْحَانَ اللّٰہِ)، تحمید (اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ) اور تکبیر (اَللّٰہُ اَ کْبَر)کے ساتھ مزین کرو۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر،حکیم الْاُمَّتمفتی احمدیارخاننَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج5، صفحہ83 پر فرماتے ہیں: باکرہ جدیدہ بیوی کے پاس سات دن ٹھہرے، پھر پرانی بیویوں کے پاس بھی سات دن ہی قیام کرے اور بیوہ جدیدہ کے پاس تین دن ٹھہرے، پھر  پرانی بیویوں کے پاس بھی تین تین دن ہی قیام کرے۔ غرضیکہ یا سات یا تین دن باریوں میں شمار ہوں گے یہ ہی احناف کا مذہب ہے، قرآن کریم فرماتا ہے:  فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً  (پ۴، النِّسَآءَ:۳،ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو) آئندہ احادیث بھی اسی معنی کی تائید کر رہی ہیں۔ امام شافعی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی) کے ہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ نئی بیوی کے پاس سات دن یا تین دن قیام کر کے پھر باری مقرر کرے، یہ قیام ان باریوں میں شمار نہ ہوگا۔ مگر احناف کا قول بہت قوی ہے طریقۂ شوافع عدل کے خلاف ہے، عدل تمام بیویوں میں چاہیئے نئی ہوں یا پرانی، قرآن کریم اور دیگر احادیث میں مطلقاً عدل کا حکم ہے نئی و پرانی میں فرق نہیں کیا گیا۔ شوافع کے اس معنی کی بنا پر یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی اور دیگر احادیث کے بھی۔ 
2…سنن الدارمی، باب الاقامۃ عندالثیب والبکر…الخ، الحدیث:۲۲۰۹، ج۲، ص۱۹۴۔
3…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حلاوۃ الایمان، الحدیث:۱۶، ج۱، ص۱۷۔
4…فردوس الاخبار، الحدیث:۳۱۵۱، ج۱، ص۴۲۲۔