اور زیادہ خاموش رہنے دو نوں کو ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ (۱)
(2428)…حضرت سیِّدُنا مقاتل بن حیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جو شخص بھی کوئی (خلاف شرع) بدعت ایجاد کرتا ہے وہ اپنے لئے تلوار کو حلال کر لیتا ہے ۔‘‘ (۲)
خواہشات کے پیروکاروں کی صحبت سے بچو!
(2429)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’نہ تو خواہش کے پیروکاروں کے پاس بیٹھو اور نہ ہی ان سے گفتگو کر و کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہی میں مبتلا نہ کرلیں یا جو کچھ تم جانتے ہو اس کے متعلق تمہیں شک و شبہ میں نہ ڈال دیں۔‘‘ (۳)
(2430)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’خواہشات کے پیروکار اور منافقین کی مثال ایک سی ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے منافقین کا ذکر یوں کیا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ان کا اجتماع سراسر گمراہی ہے جبکہ اہل ہوا خواہشات میں تو مختلف ہوتے ہیں لیکن تلوار پر جمع ہوتے ہیں۔‘‘ (۴)
سیِّدُنا ابوقِلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی احادیث
حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں۔ چند روایات درج ذیل ہیں:
(2431)…حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیوں کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کنواری عورت کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار ابی العالیۃ، الحدیث:۱۷۴۹، ص۳۰۸۔
2…سنن الدارمی، باب اتباع السنۃ، الحدیث:۹۹، ج۱، ص۵۸۔
3…سنن الدارمی، باب اجتناب اہل الاہواء والبدع والخصومۃ، الحدیث:۳۹۱، ج۱، ص۱۲۰۔
سیراعلام النبلاء، الرقم:۵۴۵، ابوقلابۃ عبد اللّٰہ بن زید، ج۵، ص۳۹۱۔
4…الدرالمنثور، پ۱۰، سورۃ التوبۃ، تحت الآیۃ:۷۵، ج۴، ص۲۴۸۔