(2423)…حضرت سیِّدُنا حماد بن خالد حذاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’فاخرانہ لباس پہننے والوں (کی صحبت)سے بچو!‘‘ (۱)
(2424)…حضرت سیِّدُنا خالد حذاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس جاتے تو وہ ہمیں تین احادیث بیان کرکے فرماتے: ’’میں نے زیادہ بیان کردیں۔‘‘ (۲)
سب سے زیادہ پاکیزہ چیز:
(2425)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’کوئی چیز بھی رو ح سے زیادہ پاکیزہ وطیب نہیں کیونکہ جب بھی یہ کسی چیز سے نکال لی جاتی ہے تووہ بدبو دار ہوجاتی ہے۔‘‘ (۳)
قصہ گو اور عالم کی صحبت میں فرق:
(2426)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’قصہ گو لوگوں نے علم کو بر باد کردیا ہے۔ کوئی شخص ایک سال تک قصہ گو کے پاس بیٹھتا رہتا ہے لیکن کچھ بھی حاصل نہیں کرپاتا، جبکہ کسی صاحب علم کے پاس کچھ دیر بیٹھتا ہے تو کچھ نہ کچھ حاصل کر کے ہی اٹھتا ہے۔‘‘ (۴)
دونوں ناپسند:
(2427)…حضرت سیِّدُنا عمر و بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: ’’اے ابو قلابہ! احادیث بیان کرو!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بخدا! میں زیادہ احادیث بیان کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الکامل فی ضعاء الرجال، الرقم:۱۴۹۶، عبدالکریم بن ابی المخارق، ج۷، ص۳۹۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۳۰۲، عبداللّٰہ بن زید بن عامر، ج۲۸، ص۳۰۲۔
3…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۵۴۵، ابوقلابۃ عبد اللّٰہ بن زید، ج۵، ص۳۹۱۔
4…القصاص والمذکرین، الرقم:۲۰۶، ص۳۵۳-۳۵۴۔