(2421)…حضرت سیِّدُنا خالد حذاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا: ’’ نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے(۱)؟‘‘ فرمایا: ’’تعظیم (الٰہی)کے لئے ہے۔‘‘
کس چیز میں برکت نہیں؟
(2422)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مجھے ردی کھجور یں خریدتے دیکھا تو فرمایا: ’’میں خیال کرتا تھا کہ ہماری صحبت میں بیٹھنے سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں کچھ نفع پہنچایا ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر ردی چیز سے برکت نکال دی ہے۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احناف کے نزدیک نماز میںتکبیر تحریمہ اور تکبیر قنوت کے سواکہیں بھی رفع یدین جائز نہیں۔ چنانچہ، مفسرشہیرحکیم الْاُمَّت مفتی احمدیارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج2، صفحہ16 پر حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی اس حدیث پاک کہ ’’نبیصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل اٹھاتے اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی یونہی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد اور سجدے میں یہ نہ کرتے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’(کندھوں کے مقابل ہاتھ اٹھانے سے مراد یہ ہے) کہ گٹے کندھوں تک رہتے اور انگوٹھے کانوں تک۔ (نیز) اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کیا مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ آخر وقت تک کیا۔ حق یہ ہے کہ رفع یدین منسوخ ہے۔ چنانچہ عینی شرح بخاری میں ہے کہ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابن زبیر(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کرتے دیکھا تو فرمایا ایسا نہ کیا کرو یہ وہ کام ہے جسے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے اوّلاًکیا تھا پھر چھوڑ دیا نیز سیِّدُنا ابن مسعود، عمر ابن خطاب، علی مرتضیٰ، براء ابن عازب، حضرت علقمہ وغیرہم بہت صحابہ(رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ) سے کہ وہ رفع یدین نہ کرتے تھے اور کرنے والوں کو منع کرتے تھے نیز ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے حضرت مجاہد (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد) سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابن عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے سوا تکبیر اولیٰ کے کسی وقت ہاتھ نہ اٹھائے معلوم ہوا کہ سیِّدُنا ابن عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے نزدیک بھی رفع یدین منسوخ ہے نیز رسالہ آفتابِ محمدی میں ہے کہ حضرت ابن عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی حدیث چند روایتوں سے منقول ہے جس میں سے ایک روایت میں یونس ہے جو سخت ضعیف ہے دوسری اسناد میں ابوقلابہ ہے جو خارجی المذہب تھا (دیکھو تہذیب) تیسری اسناد میں عبیداللّٰہ ہے۔ یہ پکارا فضی تھا، چوتھی اسناد میں شعیب ابن اسحاق ہے جو مرجیہ مذہب کا تھا غرض کہ رفع یدین کی احادیث کی اکثر اسنادوں میں بدمذہب خصوصاً روافض بہت شامل ہیں کیونکہ یہ ان کا عمل ہے ہوسکتا ہے کہ روافض کے تقیہ کی وجہ سے امام بخاری کو بھی پتا نہ لگاہو۔ لہٰذا مذہب حنفی نہایت قوی ہے کہ نمازوں میں سوا تکبیر تحریمہ کے اور کہیں رفع یدین نہ کیا جائے۔‘‘
نوٹ:رفع یدین کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمدیار خان نَعِیْمِیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی مایہ ناز تصفیف’’جاء الحق‘‘سے حصہ دوم، چھٹاباب: رفع یدین نہ کرو کا مطالعہ مفید رہے گا۔
2…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۴۵، ابوقلابۃ عبد اللّٰہ بن زید، ج۵، ص۳۹۱، باختصار۔