Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
44 - 603
جاؤ۔‘‘ وہ بیٹھ گئے، سیر ہوکر کھایا پھر اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ پیالہ جوں کا توں بھرا ہوا تھا۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے واثِلہ! اسے عائشہ کے پاس لے جاؤ۔‘‘  (۱)
غیب کی خبر:
(1398)…حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن حیان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا واثِلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں اہلِ صفہ کے فقرا میں سے تھا۔ ایک دن حضور نبی ٔپاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’میرے بعد تمہارا کیا حال ہوگا جب تم گندم کی روٹی اور زیتون سے پیٹ بھرو گے۔ انواع واقسام کے کھانے کھاؤ گے اور طرح طر ح کے لباس زیب تن کرو گے تو کیا تم آج بہتر حالت میں ہو یا اس دن ہوگے؟‘‘ صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’ہم اُس دن بہتر ہوں گے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’نہیں! بلکہ تم آج بہتر ہو۔‘‘  (۲)
(1399)…حضرتِ سیِّدُنا واثِلہ بن اسقع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’وہ زمانہ گزر گیا حتی کہ ہم نے انواع و اقسام کے کھانے کھائے، طرح طرح کے لباس زیبِ تن کئے اور عمدہ قسم کی سواریوں پر سواری کی۔‘‘  (۳)
حضرتِ سیِّدُنا وابِصَہ بن مَعْبَد جُہَنِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
	حضرتِ سیِّدُنا وابِصَہ بن معبد جہنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اہلِ صفہ میں سے ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوب بن مکرر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا وابِصَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فقرا کی صحبت اختیار کیا کرتے اور فرماتے کہ زمانۂ رسالت میں یہ میرے بھائی تھے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا وابِصَہ اور حضرتِ سیِّدُنا عُقْبَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فقرا کے ساتھ ہی اٹھتے بیٹھتے تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۰۸، ج۲۲، ص۸۶۔
2…مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب تغیر الناس، الحدیث:۵۳۶۶، ج۲، ص۲۷۵، مفہومًا۔
3…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۲۶۵۹، سلیمان بن حیان الدمشقی، ج۲۲، ص۲۲۳۔