Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
439 - 603
دو چیزوں پر بندے کو اختیار نہیں:
(2411)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ابن آدم! میں نے تجھے دو چیز یں دی ہیںلیکن ان میں سے ایک میں بھی تجھے اختیار نہیں: (۱)…اپنی ملکیت میںآنے والی چیز پر تو بخل سے کام لیتا ہے، جب میں تجھے نکیل سے پکڑتا (یعنی موت دیتا) ہوں تو وہ چیز دو سرے کی ہوجاتی ہے پھر اس میں تیرا حصہ مقرر کردیتا ہوں یا فر مایا: اس سے تیرے لئے کچھ حصہ فرض کردیتا ہوں جس کے ذریعے تجھے پاک و صاف کرتا ہوں۔ (۲)…(تیرے مرنے کے بعد) میرے بندے تجھ پر نمازپڑھتے ہیں باوجود یہ کہ تیرا نامہ اعمال لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد تیرے لئے کوئی عمل نہیں ہوتا۔‘‘
(2412)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ ’’عبدالرحمن بن اذنیہ کے انتقال کے بعد عہدۂ قضا کے لئے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ  کو نامزد کیا گیا تو آپ ملک شام کی جانب ہجرت کر گئے۔‘‘  (۱)
(2413)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے بڑھ کر قضا کا علم رکھنے والا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا کسی کو نہیں پایااور نہ ہی اس شہر میں ان سے بڑھ کر کسی کو قضا کا عالم پایا۔‘‘  (۲)
(2414)…حضرت سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْربیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو انہوں نے فرمایا: ’’اگر تم خارجی نہیں ہو تو آ جاؤ۔‘‘
اولیا کی شان:
(2415)…حضرت سیِّدُنا یزید رشک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن عرش کی جانب سے ایک منادی ندا دے گا کہ سن لو! بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ ہر شخص سر اٹھائے گا تو منادی کہے گا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی(دوست) وہ جوایمان لائے او
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب البیوع والاقضیۃ، فی القضاء وماجاء فیہ، الحدیث:۹، ج۵، ص۳۵۸۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۳۰۲، عبداللّٰہ بن زید بن عامر، ج۲۸، ص۳۰۲۔