Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
438 - 603
عجمیوں کے چیف جسٹس ہوتے:
(2407)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ ’’بخدا! حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ صاحب ِ بصیرت فقہا میں سے تھے۔‘‘ نیز مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسلم بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ ’’اگر حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ عجمی ہوتے تو عجمیوں کے قاضی ُالقُضات (چیف جسٹس) ہوتے۔‘‘  (۱)
بندے کی ہلاکت و نجات:
(2408)…حضرت سیِّدُنا عاصم احول عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’کوئی بھی شخص نجات کے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ لوگوں سے زیادہ اپنے نفس سے آگاہ ہو اور ہلاکت کے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب لوگ اس سے زیادہ اس کے نفس سے آگاہ ہوں۔‘‘  (۲)
عظیم کامیابی:
(2409)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا کہ اچانک ہم نے قصہ گواور اس کے ساتھیوں کی بلند آواز یں سنیں تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن ایمان و عافیت کی موت کو عظیم کامیابی سمجھتے تھے۔‘‘  (۳)
جہاں تک ہوسکے بدگمانی سے بچو!
(2410)…حضرت سیِّدُنا حمید الطویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر تجھے اپنے بھائی کی جانب سے کوئی ایسی چیز پہنچے جو با عث تکلیف ہو تو اس کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرنے کی کوشش کر اگر کوئی عذر سمجھ نہ آئے تو دل میں یہ کہہ کہ شاید میرے بھائی کو کوئی ایسا عذر ہوجس کا مجھے علم نہ ہو۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، حدیث ابی قلابۃ، الحدیث:۴۔۵، ج۸، ص۲۵۴۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۵۸، ابو قلابۃ الجرمی، ج۷، ص۱۳۶۔
3…الزہد لوکیع بن الجراح، باب الحزن وفضلہ، الحدیث:۲۰۹، الجزء الاول(ب)، ص۴۶۱۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۲، ابوقلابۃ عبد اللّٰہ بن زید الجرمی، ج۳، ص۱۵۸۔