Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
437 - 603
سے محبت اور اپنی مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو کسی فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کئے بغیر وفات دے دینا۔‘‘ (۱)
علما کی موجودگی باعث برکت ہے:
(2405)…حضرت سیِّدُناابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: میری موجودگی میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْزکے سامنے قسامت(۲) کے متعلق بحث ہونے لگی (کہ آیا یہ درست ہے یا نہیں) تو میں نے حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی عُرَنِیِّیْن کا قصہ بیان کیا، اس پر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْزنے فرمایا: ’’اے اہل شام! جب تک تم میں یہ یا ان جیسی عظیم الشان ہستی ہے تم ہمیشہ بھلائی پر رہو گے۔‘‘  (۳)
(2406)… حضرت سیِّدُناابورجاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعنبسہ بن سعید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْدنے حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے متعلق فرمایا: ’’ جب تک یہ شیخ کسی لشکر میں موجود ہیں وہ ہمیشہ بھلائی پر رہے گا۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، حدیث ابی قلابۃ، الحدیث:۲، ج۷، ص۲۵۳۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،  جلد5،صفحہ258پر قسامت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قسامت کے لغوی معنے ہیں قسم کھانا یا قسم لینا مگر احناف کے نزدیک قسامت کے معنے شرعی یہ ہیں کہ کسی محلہ میں کوئی مقتول پایا گیا قاتل کا پتہ نہیں چلتا تو مقتول کے ورثاء اس محلہ کے پچاس آدمیوں سے قسم لیں ہر ایک یہ قسم کھائے کہ نہ ہم نے اسے قتل کیا ہے نہ ہم کو قاتل کا پتہ ہے، ان پچاس آدمیوں کے چننے میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ محلہ میںسے جن سے چاہیں قسم لیں مگر آزاد عاقل بالغ مردوں سے قسم لیں، خیال رہے کہ قسامت کے بعد قصاص کسی پر واجب نہ ہوگا،بلکہ دیت واجب ہوگی خواہ مقتول کے وارث قتل عمد کا دعویٰ کریں یا قتل خطاء کا ، نیز قسم صرف ملزمین پر ہوگی مقتول کے ورثاء پر نہ ہوگی جیسا کہ تیسری فصل میں آرہا ہے یا مقتول کے ورثاء دو عینی گواہ پیش کریں ورنہ ملزمین قسمیں کھائیں، قسامت کا یہ طریقہ زمانہ جاہلیت میںمروَّج تھا جسے اسلام نے بھی باقی رکھا، قسامت کے تفصیلی احکام کتب فقہ میں اور اسی جگہ لمعات، اشعۃ اللمعات اور مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ملاحظہ فرمائیں۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۳۰۲، عبداللّٰہ بن زید بن عامر، ج۲۸، ص۲۹۷۔
4…صحیح البخاری، کتاب الدیات، باب القسامۃ، الحدیث:۶۸۹۹، ج۴، ص۳۶۹۔