Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
434 - 603
(2395)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضر ت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس مومن بندے سے محبت فرماتا ہے جو محتاج ہونے کے باوجود سوال کرنے سے بچے۔‘‘  (۱)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضر ت سیِّدُنا ابوقِلابہ عبدُاللّہ بن زید
جَرْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
	حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ عبداللّٰہ  بن زید جرمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔آپ عقل مند، نصیحت کرنے والے،فصیح و بلیغ خطیب، خوف خدا رکھنے والے اور خوش دلی کے ساتھ راہ خدا میں خرچ کرنے والے تھے۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: مخلوق خدا کی خلوص دل کے ساتھ خیرخواہی کرنے اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
(2396)…حضرت سیِّدُنا صالح بن رستم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو قلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے فرمایا: ’’اے ایوب! جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں علم کی نعمت سے سرفراز فرمائے تو کثرت سے اس کی عبادت کرو اور لوگوں کی باتوں پر غمزدہ نہ ہونا۔‘‘  (۲)
سب سے بڑا عالم:
(2397)…حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ہم بھی اور ہمارے صحابہ بھی کھا رہے ہیں، اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا کہ مسافر لوگ آپس میں مل بانٹ کر چیزیں کھائیں ، اکیلے کھالینا مروت اور اخلاق کے خلاف ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے کچھ مانگنا نہ ناجائز ہے نہ اس میں کوئی ذلت، یہ تو ان خدام کے لئے باعث فخر و عزت ہے۔‘‘اور  جلد6، صفحہ213 پر ہے: ’’ناجائز یا شرکیہ الفاظ سے دم کرنا حرام یا کفر ہے جائز دعائیں پڑھ کر دم کرنا سنت ہے۔ ‘‘
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۴۴۱، ج۱۸، ص۱۸۶۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۳۰۲، عبداللّٰہ بن زید بن عامر، ج۲۸، ص۳۰۶۔