ہیں۔پس جب کسی بندے کو اطاعت الٰہی میں دیکھتے ہیں تو نام لے کر آپس میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: آج رات فلاں نے فلاح پائی، آج رات فلاں کامیاب ہوگیا اور جب کسی کو نافرمانی میں مبتلا دیکھتے ہیں تو (اس کا نام لے کر)کہتے ہیں: آج رات فلاں شخص خسارے میں رہا، فلاں ہلاک ہوا۔‘‘ (۱)
دم درود کرنا، کروانا جائز ہے:
(2394)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں ایک لشکر کے ساتھ جہاد کے لئے نکلا راستے میں ہمیں بھوک نے آلیا۔ ہم ایک بستی کے قریب سے گزرے تو ایک باندی ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی: ’’ہمارے مردو ں میں اختلاف ہوگیا ہے جبکہ ہمارے سردار کو کسی موذی چیزنے ڈس لیا ہے کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟‘‘ چنانچہ، میں گیا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ بستی والوں نے ہمیں ایک بکری دی اور کھانا کھلایا، کھانا تو ہم نے کھالیا لیکن بکری کے متعلق خوف زدہ ہوگئے (کہ آیا لینا جائز ہے یا نہیں)، لہٰذا جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تمہیں کیسے پتہ چلا کہ سورۂ فاتحہ دم بھی ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’بخدا! میں نے تو یوں ہی برکت کے لئے پڑھ کر دم کیا تھا۔‘‘ پیارے مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بکری لے لو اور اس میں سے مجھے بھی حصہ دینا۔‘‘ (۲) (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم:۷۶۶، سلام بن سلیم، ج۴، ص ۳۰۸۔
2…صحیح مسلم، کتاب السلام، باب جواز اخذ الاجرۃ…الخ، الحدیث:۲۲۰۱، ص۱۲۰۸، بتغیر۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد4،صفحہ336پراسی مفہوم کی ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ’’ناجائز کام پر اجرت لینا منع ہے، قرآن کریم پڑھنا یا اس سے علاج کرنا منع نہیں تو اس کی اجرت کیوں منع ہوگی۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) قرآنی آیات سے علاج جائز ہے خواہ دم کرکے ہو یا تعویذ لکھ کر یا گنڈا کرکے، کہ دھاگے وغیرہ پر دم کر دے اور دھاگہ مریض کے باندھے، اس علاج پر اجرت لینا جائز ہے۔ (۲) قرآن کریم یا احادیث یا فتویٰ لکھنے کی اجرت لینا جائز ہے۔‘‘ (مجھے بھی حصہ دینا) کے تحت فرماتے ہیں: معلوم ہوتا ہے کہ اب تک ان حضرات نے یہ بکریاں بانٹی اور کھائیں نہ تھیں اور واپس بھی نہ کی تھیں، کہ اب تک انہیں جائز یا ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا، یہ ساری بکریاں دم کرنے والے کی تھیں، مگر حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا ان تمام صحابہ میں تقسیم کرانا اور اپنا حصہ بھی ان میں رکھنا، یہ بتانے کے لئے ہے کہ یہ بڑی طیب اور بہترین کمائی ہے جسے …