Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
431 - 603
پروردگارجواد و کریم ہے:
(88- 2387)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا۔ استفسار فرمایا: ’’اے بلال! یہ کیا ہے؟‘‘عرض کی: ’’کچھ کھجوریں میں نے جمع کر رکھی ہیں۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے بلال! تم ہلاک ہو کیا اس سے نہیں ڈرتے کہ اس کے سبب جہنم میں تمہارے لئے بخار ہو۔ اے بلال! خرچ کرو اور عرش کے مالک عَزَّوَجَلَّ سے کمی کا خوف نہ رکھو۔‘‘  (۱)
شیخین جیسی فضیلت کوئی نہیں پاسکتا:
(2389)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ مکی مدنی سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اس کی قبر کی کچھ مٹی اس پر پھینکی جاتی ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوعاصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم فرماتے ہیں: ’’امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو جو فضیلت حاصل ہے اس جیسی فضیلت کوئی نہیں پاسکتا کیونکہ ان دونوں (کی قبر)کی مٹی روضۂ رسول کی مٹی سے ہے۔‘‘  (۲)
(2390)…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور انور، شافع محشرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس فرمان باری تعالیٰ:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…گیا ہے کہ آپ آئندہ بات پر  اِنْ شَآءَاللہ ضروری فرمایا کریں مگر خیال رہے کہ جائز اور بہتر باتوں پر  اِنْ شَآءَاللہ کہنا چاہئے ۔ نہ کہ حرام چیزوں اور بلاؤں آفتوں پر۔ یہ کہو کہ اِنْ شَآءَاللہ نماز پڑھوں گا یوں نہ کہو کہ  اِنْ شَآءَاللہ میں چوری یا زنا کروں گا۔ شراب پیوں گا۔ اسی طرح یوں کہو کہ  اِنْ شَآءَاللہ بیمار کو آرام ہوگا یوں نہ کہو کہ اِنْ شَآءَاللہ عنقریب بیماری پھیلے گی۔ کیونکہ بیماری بلا ہے۔ یہاں لفظ اندیشہ وغیرہ استعمال کرو۔ اِنْ شَآءَاللہ کہنا بعض جگہ سنت ہے اور بعض جگہ منع اور بعض موقع پر کفر بھی ہے۔(ماخوذازتفسیرنعیمی، ج۱، ص۴۰۷)
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۲۴، ج۱، ص۳۴۱۔
	المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۲۵، ج۱، ص۳۴۲۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۰۶، عمر بن الخطاب، ج۴۴، ص۱۲۲۔