Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
430 - 603
 گھڑی مختصر ہے۔‘‘  (۱)
آدھا انسان:
(2386)…حضرت سیِّدُنا امام محمدبن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک رات حضرت  سلیمان عَلَـیْہِ السَّلَام نے فرمایا: آج رات میں اپنی 100 بیویوں کے پاس جاؤں گا تا کہ ہر عورت ایک لڑکے کو جنم دے جو راہ خدا میں جہاد کرے۔ لیکن اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّنہ کہا۔ چنانچہ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی 100 بیویوں سے صحبت کی لیکن صرف ایک نے آدھے انسان کو جنم دیا۔ اگر آپ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ کہہ دیتے تو ضرور ہر عورت لڑکے کو جنم دیتی جو راہ خدا میں جہاد کرتا۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک زمانے کے دنوں میں تمہارے ربّ کی طرف سے خوشبودار جھونکے ہیں۔ سنو! انہیں حاصل کرو۔‘‘ اور جمعہ کا دن بھی انہیں ایّام میں سے ہے۔ لہٰذابندے کو چاہئے کہ جمعہ کاسارا دن اس گھڑی کے حصول کے لئے دل کو حاضر رکھے، ذکر کو لازم پکڑے اور دنیا کے وسوسوں سے بچے تو قریب ہے کہ وہ ان خوشبودار جھونکوں میں سے کچھ حصہ پا لے۔ (۱۰)…حضرت سیِّدُناکعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’یہ جمعہ کی آخری ساعت ہے اور یہ غروب آفتاب کے وقت ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’یہ آخری گھڑی کیسے ہوسکتی ہے جبکہ میں نے رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ وہ ایسے بندے کے موافق ہوتی ہے جو نماز پڑھتا ہے اور یہ نماز کا وقت نہیں۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: کیا مکی مدنی سرکار،حبیب پروردگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد نہیں فرمایاکہ ’’نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا نماز میں ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’جی ہاں! یہ تو فرمایا ہے۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’یہ نماز ہی ہے۔‘‘ (یہ سن کر) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خاموش ہوگئے۔حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس طرف مائل تھے کہ اس دن کا حق پورا کرنے والوں کے لئے یہ ایک رحمت ہے اور اس کے بھیجنے کا وقت وہ ہے جب بندہ عمل سے مکمل طور پر فارغ ہوجائے۔
	خلاصۂ   کلام یہ ہے کہ یہ اور اس کے ساتھ امام کے منبر پر بیٹھنے کا وقت باعث ِ فضیلت ہے۔ لہٰذا ان دو وقتوں میں زیادہ سے زیادہ دُعا کرنی چاہئے۔
1…صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فی الساعۃ التی یوم الجمعۃ، الحدیث:۸۵۲، ص۴۲۴۔
2…ہرامید پر ’’ اِنْ شَآءَاللہ ‘‘ ضرور کہنا چاہئے ورنہ وہ امید پوری نہ ہوگی۔ اِنْ شَآءَاللہ کہنے میں عقیدے اور عمل کی اصلاح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہنے والا اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ رب کی مدد پر۔ قرآن کریم میں حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے فرمایا…